ملکہ برطانیہ نے کس سے اعزاز لے لیا؟

لندن(ویب ڈیسک)ملکہ برطانیہ نے خواتین کے ساتھ غیر اخلاقی کام‘ الزامات ثابت ہونے کے بعد ہولی وڈ پروڈیوسر 68 سالہ ہاروی وائنسٹن کو دیا گیا اعزازی ایوارڈ واپس لے لیا۔ہاروی وائنسٹن رواں برس مارچ سے ایک خاتون کے ساتھ غیر اخلاقی کام کے الزام میں 23 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، انہوں نے اپنی سزا کے خلاف اپیل بھی دائر کر رکھی ہے۔

علاوہ ازیں ہاروی وائنسٹن کے خلاف امریکا کی متعدد ریاستوں میں غیر اخلاقی کام‘ اور خواتین کا استحصال کے فوجداری مقدمات کی سماعت ہونا ابھی باقی ہے۔ابھی تک ہاروی وائنسٹن کو صرف ایک ہی کیس میں امریکی ریاست نیویارک کی عدالت نے قید میں بھیجا ہے، جب کہ ان کے خلاف لاس اینجلس سمیت متعدد شہروں کی عدالت میں انتہائی نوعیت کے مقدمات زیر التوا ہیں۔علاوہ ازیں ہاروی وائنسٹن کو درجنوں سول مقدمات کا بھی سامنا ہے، جن میں خواتین نے ان کے خلاف ہرجانے کے دعوے دائر کر رکھے ہیں اور انہوں نے مذکورہ خواتین کو رواں ماہ نئے ساڑھے تین کروڑ ڈالر کے تصفیے کی پیش کش بھی کر رکھی ہے۔اس سے قبل ہاروی وائنسٹن نے متعدد خواتین کے ساتھ ایک کروڑ 90 لاکھ ڈالر میں تصفیہ طے کیا تھا مگر عدالت نے ایک خاتون کی شکایت پر ان کے تصفیے کو مسترد کردیا تھا، جس کے بعد انہوں نے خواتین کو اضافی رقم والے تصفیے کی پیش کش کی تھی۔غیر اخلاقی کام‘ اور خواتین کے استحصال کے الزامات میں آسکر اکیڈمی نے بھی ہاروی وائنسٹن کی رکنیت ختم کر رکھی ہے، جب کہ دیگر کئی فلمی تنظیموں نے بھی ان کے خلاف کارروائی کر رکھی ہے۔اور اب ملکہ برطانیہ نے بھی ڈیڑھ دہائی قبل فلم ساز کو دیا جانے والا سول برطانوی اعزاز واپس کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔خبر رساں ادارے رائٹرز نے لندن گزٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ملکہ برطانیہ نے ہاروی وائنسٹن کو دیا گیا اعلیٰ خدمات کا دیا گیا سول کمانڈر کا اعزازی ایوارڈ واپس لینے کا حکم جاری کردیا۔ملکہ برطانیہ نے اپنے حکم نامے میں واضح لکھا کہ ریاست برطانیہ کی جانب سے فلم ساز کو جنوری 2004 میں دیے گئے ایوارڈ کو منسوخ کیا جائے۔ملکہ برطانیہ نے فلم ساز کو دیا گیا ایوارڈ ایک خاتون اسسٹنٹ کو چھیڑ چھاڑ کرنے اور ایک خاتون کو غیر اخلاقی کام‘کا نشانہ بنائے جانے کا الزام ثابت ہونے پر منسوخ کرنے کا حکم دیا۔