جماعت اسلامی کے رہنما نے انتہائی شرمناک بیان داغ دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے ریپ کے مجرموں کو نامرد بنانے کی تجویز پر اعتراض اٹھادیا۔شیریں مزاری کہتی ہیں اجتماعی zyadti کرنے والے کو نامرد کردیں، نامرد کرنا مسئلے کا حل نہیں، اس قانون میں سقم ہے جس پر عملدرآمد کرایا ہی نہیں جاسکتا، قرآن و سنت

کے مطابق قوانین مرتب کیے جائیں، زینب الرٹ بل کی منظوری کے وقت شرعی احکامات کے مطابق قانون بنتا تو واقعات رک جاتے۔ یہاں تو ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں جب کسی عورت نے مرد کو غائب کرکے کئی کئی روز تک زبردستی کیا ہے، تو کیا ایسی عورتوں کو بھی ناعورت کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ نامرد بنانا مسئلے کا حل نہیں ہے، اگر کوئی عورت ڑیپ کرے تو کیا کریں گے؟ اگر کوئی شادی شدہ مرد اور عورت غلط کاری کرتے ہوئے پائے گئے تو ان کا کیا کیا جائے گا۔ شریعت کے مطابق قانون سازی کی جائے اور ایسے مجرموں کو سرعام لٹکایا دی جائے یا سنگسار کیا جائے۔ مولانا عبدالاکبر چترالی کے مطابق جنرل ضیا کے دور حکومت میں ایک ایسے ہی مجرم کو سرعام لٹکانے کی سزا دی گئی جس کے بعد 10 سال تک جرائم نہیں ہوئے۔ ہر ضلع میں شرعی عدالتیں قائم کرکے ججز اور علماء کو شریعت کے مطابق فیصلوں کا پابند بنایا جائے۔ کے مطابق قوانین مرتب کیے جائیں، زینب الرٹ بل کی منظوری کے وقت شرعی احکامات کے مطابق قانون بنتا تو واقعات رک جاتے۔ یہاں تو ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں جب کسی عورت نے مرد کو غائب کرکے کئی کئی روز تک زبردستی کیا ہے، تو کیا ایسی عورتوں کو بھی ناعورت کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ نامرد بنانا مسئلے کا حل نہیں ہے، اگر کوئی عورت ڑیپ کرے تو کیا کریں گے؟ اگر کوئی شادی شدہ مرد اور عورت غلط کاری کرتے ہوئے پائے گئے تو ان کا کیا کیا جائے گا۔ شریعت کے مطابق قانون سازی کی جائے اور ایسے مجرموں کو سرعام لٹکایا دی جائے یا سنگسار کیا جائے۔ مولانا عبدالاکبر چترالی کے مطابق جنرل ضیا کے دور حکومت میں ایک ایسے ہی مجرم کو سرعام لٹکانے کی سزا دی گئی جس کے بعد 10 سال تک جرائم نہیں ہوئے۔ ہر ضلع میں شرعی عدالتیں قائم کرکے ججز اور علماء کو شریعت کے مطابق فیصلوں کا پابند بنایا جائے۔