You are here
Home > noinstant > موٹر وے زیادتی کیس: واقعہ کا چشم دید گواہ سامنے آ گیا ۔۔۔ کیس کا رخ بدل دینے والی حقیقت سامنے آ گئی

موٹر وے زیادتی کیس: واقعہ کا چشم دید گواہ سامنے آ گیا ۔۔۔ کیس کا رخ بدل دینے والی حقیقت سامنے آ گئی

لاہور(ویب ڈیسک) مشرقی بائی پاس موٹروے پر خاتون سے ڈکیتی اور زیادتی کے واقعے کے عینی شاہد کا بیان سامنے آگیا۔خاتون کے ساتھ ڈکیتی کی واردات کے عینی شاہد نے جیو نیوز سے ٹیلی فونک گفتگو کی اور بتایا کہ خاتون کو ایک ڈاکو زبردستی کھینچ کر پیچھے لے جارہا تھا۔عینی شاہد خالدصفدر نے مزید بتایا

کہ خاتون کو کھینچنے والا شخص اسے تھپڑ بھی مار رہا تھا،گاڑی کے پیچھے ایک اورشخص کھڑا تھا۔خالد صفدر نے بتایا کہ انہوں نے یہ سب دیکھنے کے بعد واقعے کی اطلاع 15 کو دی۔خیال رہے کہ 9 ستمبر کو لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا تھا۔دو افراد نے موٹر وے پر کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور اس کے بچوں کو نکالااور سب کو قریبی جھاڑیوں میں لے گئے اور پھر خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ دوسری طرف صحافی عارف حمید بھٹی نے کہا ہے کہ یہ سنا ہے پولیس عوام کی محافظ ہے،اب ایسا لگ رہا ہے پولیس ڈاکووں چوروں اور ریپ کرنے والوں کو حفاظت دینے کے لیے ہے ۔نجی نیوز چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی سی پی او کی تاریخ ہے ،یہ سب ایک سکرپٹ کے تحت ہوا ہے ۔سی سی پی او کو لگا یا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مسلم لیگ ن کو توڑیں ،بلدیاتی الیکشن جتائیں ،اگر یہ باتیں نہیں ہوئیں تو حلف دے دیں ،میں معذرت کروں گا۔پھر ایک پلاننگ کی گئی کہ اگر یہ سی سی پی او لگا رہا اور اوپر آئی جی شعیب دستگیر لگا رہا تو یہ لوٹ مار ہو نہیں سکے گی جو ہم کرانا چاہتے ہیں ۔عارف حمید بھٹی نے کہا کہ شعیب دستگیر کا میں فین نہیں ہوں ،انہیں تبدیل کرانے کے لیے سی سی پی او سمیت پانچ لوگوں کی میٹنگ ہوئی جس کے بعد لاہور پولیس کا اجلاس بلا یا گیا ۔اس اجلاس میںنازیبا الفاظ کا استعمال کیا گیا۔یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا بلکہ سی سی پی او کو یہ سکرپٹ ایک ایڈ وائزر نے دیا۔


Top