”بے شرموں کی طرح بکنی اور تیراکی کا مختصر لباس پہن کر ۔۔۔“انسٹا گرام پر عائشہ عمر نے تمام حدیں پار کر دیں

لاہور (ویب ڈیسک )پاکستان کی معروف اداکارہ عائشہ عمر نے سوشل میڈیا پرمختصر لباس زیب تن کرنے پر تنقید کا نشانہ بنانے والے ایک صارف کو آڑے ہاتھوں لے لیا اور میدان میں آتے ہوئے سیدھی سیدھی سنا ڈالیں ۔انسٹا گرام پر صارف نے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ”یہاں یہ واضح کرنا چاہتاہوں

کہ ایک مسلمان خاتون جو کہ بے شرموں کی طرح مختصر لباس(بکنی یا تیراکی کا سوٹ پہن کر) زیب تن کر کے چار ہزار لوگوں سے بھرے مجمعے کے درمیان میوزیکل کنسرٹ میں شریک ہوتی ہے وہ اب جنسی ہراسگی کیخلاف آواز بلند کر رہی ہے ، جو کہ سچ ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی ، ہراسگی کے واقعے کے 15 سال بعد ہو ش آیا ہے ، کیا اس کا کوئی مطلب بنتا ہے ؟ کیا شرم کی بات ہے ۔“ارف کی تنقید پر اداکارہ عائشہ عمر نے میدان سنبھالا اور صارف کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ”چونکہ آپ انسانی حقوق اور اخلاقیات سے تھوڑا سا لاعلم معلوم ہوتے ہیں ، اس لیے یہاں یہ واضح کرتے چلیں کہ ایک مسلمان خاتون ، غیر مسلم عورت یا آدمی جو کسی طاقتور کے ذریعہ جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے 15 سال بھی اپنے یا کسی اور کے تجربے کے بارے میں آواز اٹھا رہا ہے ،تو اس کا مطلب ہے کہ اس میں اب تک بولنے کی ہمت نہیں تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اسے اس کے بعد کس چیز کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ اس کیلئے تیار نہیں تھی ، اس کی یا اس کے لباس کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ،کسی کا لباس اس کو چھوئے جانے یا ہراسگی کا ذمہ دار نہیں ہے ، اس کے ذمہ دار ہراساں کرنے والے کا بیمار دماغ اور ارادے ہیں ۔“، اس کے ذمہ دار ہراساں کرنے والے کا بیمار دماغ اور ارادے ہیں ۔“