بیروت میں دھماکہ: فرانس کے صدر کی لبنان آمد پر لوگ بپھرگئے ، بغاوت کیلئے تیار

اسلام آباد (ویب ڈیسک) لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہونے والے دھماکے کو دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا دھماکا مانا جا رہا ہے اس دھماکے کے نتیجے میں آدھا بیروت تباہ ہو گیا، لاکھوں کے حساب سے لوگ بے گھر جبکہ اربوں ڈالر کا نقصان پل بھرمیں ہو گیا۔

امریکہ نے اس کو حملہ قرار دیا اب ایک اسرائیلی سیاستدان موشے فیگلن نے مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے کہا کہ بیروت میں ہونے والا حملہ خدا کی طرف سے یہودیوں کے لیے ایک بہت بڑا انعام تھا۔ اور اب ہم اس کو بہت آگے لیکر جائیں گے۔ اسرائیل میں اب حضرت عیسیؑ کے حوالے سے ایک مہم چلائی جا رہی ہے یہودیوں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ حضرت عیسیؑ یہودی ہیں۔ اور وہ اب دنیا کو دھوکا دینے کے لیے دجال کو حضرت عیسیٰؑ بنا کر پیش کرنے کے چکر میں ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ یہودیوں کا جو مسیحا ہے وہ حضرت عسیٰ ؑ ہیں تاکہ جب حضرت عیسی ٰؑ آئیں اور دجال آئے تو لوگ دجال کو حضرت عیسیٰ ؑ سمجھیں۔ دوسری جانب فرانس کے صدر نے گزشتہ دن لبنان کا دورہ کیا اس موقع پرعوام کا جم غفیرامڈ آیا لیکن کوئی مقامی سیاستدان اس موقع پر ان کے ساتھ نہیں تھا۔ لوگوں نے کہا کہ تم کرپٹ لوگوں کی مدد کرتے ہو جس کے جواب میں فرانسیسی صدر نے لوگوں سے کہا کہ تم لوگ بے فکر ہو جائو۔ جو امداد دیں گے وہ آپ لوگوں تک پہنچے گی۔