لبنانی وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کے دوران سب کچھ بتا دیا

بیروت (نیوز ڈیسک) گزشتہ روز لبنان کے دارالحکومت بیروت میں میں ایک بڑا دھماکہ ہوا جس میں اب تک سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔یہ دھماکہ شام کے وقت ہوا،دھماکا اتنا شدید تھا کہ پورا شہر ہل کر رہ گیا۔دھماکے سے قبل بندرگاہ میں متاثرہ مقام پر آگ لگی دیکھی گئی جس کے بعد ایک بڑا دھماکہ ہوا اور جائے

حادثہ پر نارنجی رنگ کے بادل چھا گئے۔ملک کے صدر عون مشیل نے حادثے پر بدھ سے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔یہ دھماکہ بظاہر ایک گودام میں موجود امونیم نائٹریٹ کے ذخیرے میں ہوا تاہم اس سلسلے میں سرکاری طور پر ابھی بھی تصدیق نہیں کی گئی۔لبنانی صدر نے کہا ہے کہ یہ امونیم نائٹریٹ ایک گودام میں غیر محفوظ طریقے سے چھ برس سے موجود تھی۔لبنانی وزیراعظم حسن دیاب نے کہا ہے کہ یہ ناقابل قبول ہے کہ ویئر ہاؤس میں 2750 ٹین امونیم نائٹریٹ موجود تھی۔انہوں نے کہا کہ میں تب تک چین سے نہیں بیٹھوں گا جب تک مجھے اس واقعے کے ذمہ دار کا نہ پتا چل جائےتاکہ اس کا محاسبہ کیا جائے اور بہت سخت سزا دی جائے۔لبنانی وزیراعظم نے کہا کہ اس دھماکے کے ذمہ دار اس کی قیمت ادا کریں گے۔ منگل کی رات انہوں نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے اس المناک دھماکے کا بدلہ لینے کا وعدہ کیا۔انہوں نے کہا کہمیں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اس تباہی کہ ذمہ داروں کو اس کا حساب دینا پڑے گا۔انہوں نے اس بات کی تردید نہیں کی کہ یہ دھماکا دہشت گرد حملہ تھا یا نہیں۔تاہم انہوں نے بظاہر ابتدائی اطلاعات کی تصدیق کی ہے کہ دھماکہ ایک گودام سے ہوا ہے جو کئی برسوں سے دھماکہ خیز کیمیکل ذخیرہ کررہا تھا۔ابتدا میں کہا گیا کہ یہ دھماکہ آتش بازی کا سامان لے جانے والی جہاز پر ہوا۔س کے بعد لبنان کے کسٹمز کے ڈائریکٹر بدری داہر نے مقامی میڈیا کو بتایا کہیہ دھماکہ گودام میں موجود امونیم نائٹریٹ کی وجہ سے ہوا۔لبنان کے جنرل سیکیورٹی کے ڈائریکٹر عباس ابراہیم نے بتایا کہ گودام میں 2،750 ٹن امونیم نائٹریٹ موجود تھی۔جسے زراعت میں نائٹروجن کھاد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ 2015 میں چین کے شہر تااینجن میں بڑے پیمانے پر اسی طرح کے مواد سے دھماکہ ہوا تھا۔