ڈیرہ غازی خان سے ناقابل یقین خبر

ڈیرہ غازی خان (ویب ڈیسک) پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں اپنے والد پر الزام عائد کرنے والی خاتون کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے شوہر کو اس واقعے کا یقین دلانے کے لیے اپنی غلط ویڈیو بنانا پڑی تھی جس کے بعد پولیس نے انھیں بازیاب کروایا۔نامور صحافی ریاض سہیل کی رپورٹ کے مطابق

خاتون کے شوہر کا کہنا ہے کہ پسند کی شادی کے بعد نہ صرف ان پر بلکہ ان کے بھائیوں پر بھی جھوٹے مقدمات درج کرائے گئے اور انھیں بہت پریشان کیا گیا۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ اسی دوران انھیں تین ماہ بلوچستان میں رکھا گیا اور ان کے والدین کو کہا گیا کہ پیسے دو یا پھر لڑکی واپس کرو نہیں تو تمہارے لڑکے کی جان لے لیں گے۔مدعی خاتون کے مطابق ان کے والد نے یہ شرط رکھی کہ اگر وہ گھر واپس چلی جائیں تو ان کے شوہر کو بازیاب کرائیں گے۔’میں نے کہا ٹھیک ہے ایسا کر لیتے ہیں، اس کے بعد میرے شوہر کو رہا کیا گیا۔‘خاتون کے مطابق سنہ 2013 میں معززین کے ذریعے انھیں والدین کے ساتھ اس شرط پر بھیجا گیا تھا تاکہ باقاعدہ رخصتی کا اہتمام کیا جا سکے۔خاتون کے شوہر کا کہنا ہے کہ انھوں نے معززین کی بات مان لی تھی اور اپنی بیوی کو ان کے والدین کے حوالے کر دیا۔خاتون کا دعویٰ ہے کہ وہ اس وقت حاملہ تھیں مگر معززین کے کہنے پر والدین کے گھر چلی گئیں، جہاں پانچ روز بعد ان کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی اور ان کے والد نے ان کی نومولود بیٹی کی پندرہ دن بعد جان لے لی ۔ خاتون نے اپنے والد پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ’میری آنکھوں کے سامنے میری نومولود بیٹی کو زمین پر پھینکا تاہم خیال رہے کہ خاتون کی جانب سے دائر کردہ مقدمے میں بچی کا ذکر شامل نہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ جو

مقدمے میں بتایا گیا ہے تحقیقات اسی حد تک کی جا رہی ہیں اور خاتون کے رشتے داروں کا کہنا ہے کہ بچی بیماری کی وجہ سے فوت ہو گئی تھی۔مدعی خاتون کا دعویٰ ہے کہ ان کے والد انھیں بیٹھک میں صفائی کے بہانے بلا غلط کام کرتے تھے۔خاتون کے مطابق ان کے والد نے انھیں دھمکی دی تھی کہ اگر انھوں نے کسی کو بتایا تو وہ انھیں جان سے مار دیں گے۔خاتون کے مطابق ’وہ مجھے گھر میں اور رات کو چارپائی سے باندھ دیتے تھے، پیر میں بندھی ہوئی زنجیر کے ساتھ ویڈیو بھی والد نے ہی بنائی تھی۔‘خاتون کا کہنا ہے کہ اپنے والد کے اس عمل کی شکایت انھوں نے متعدد بار گھر والوں اور رشتے داروں سے بھی کی لیکن کسی نے کوئی مدد نہیں کی۔’والد کی شکایت اپنی والدہ، چچا اور والد کے ماموں کو بھی کی، جن کا کہنا تھا کہ ایساکر رہا ہے تو ٹھیک ہے لیکن شوہر کے گھر نہیں جا سکو گی۔ میری والدہ نے کہا کہ تم بار بار شکایت کرتی ہو۔ تمہاری ماں کو طلاق ہو جائے گی، تم چپ رہو، میں چپ رہی۔‘خاتون کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس ساری صورتحال سے اپنے شوہر کو آگاہ کیا تو اس نے ان کی بات پر یقین ہی نہیں کیا۔مدعی خاتون کے شوہر فدا حسین کے مطابق ’ایک روز میری بیوی نے کہا میں تمہیں دل کی بات بتاتی ہوں کہ میرے ساتھ کیا ہوا۔ اس دوران وہ فون پر روتی رہی۔ میں پورا قصہ سننے کے بعد ماننے کے لیے تیار نہیں تھا کہ

کوئی باپ اپنی بیٹی کے ساتھ ایسا کچھ کرے گا۔‘خاتون کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے شوہر کو ثبوت دینے کے لیے مذکورہ ویڈیو بنائی جس کے بعد اس نے معززین سے شکایت کی اور ان سے بھی ویڈیو شیئر کی، جس کے بعد پولیس حرکت میں آ گئی۔پولیس کے مطابق والد کے موبائل سے وہ ویڈیوز بھی برآمد ہوئی ہیں،ملزم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کی بیٹی نے گھر سے بھاگ کر شادی کی جو دو سال برقرار رہی اور پھر طلاق ہو گئی، جس کے بعد وہ ان کے پاس گھر آ گئیں۔ان کے مطابق ان کی بیٹی اپنے سابق شوہر کے پاس واپس جانا چاہتی تھی جس پر وہ انھیں منع کرتے تھے۔پولیس کو تحریری طور پر دیے گئے اپنے بیان میں ملزم نے مزید کہا کہ بڑی بیٹی ہونے کے ناطے گھر کا کھانا ان کی یہ بیٹی ہی بناتی تھی۔ان کے مطابق کچھ دنوں سے کھانا کھانے کے بعد ان کی طبعیت کچھ عجیب سی ہو جاتی تھی اور چار، پانچ گھنٹوں کے بعد دماغ ماؤف ہو جاتا۔ان کے مطابق 17 جون 2020 کی دوپہر کو وہ اپنے گھر کی بیٹھک میں نیم بے ہوشی کی حالت میں تھے کہ ان کی بیٹی نے انھیں جگایا اور نیم بےہوشی کی حالت میں ان کے ساتھ ’غلط کام کیا۔ملزم کے بقول ان کی بیٹی نے منصوبہ بندی کے ساتھ ان کے موبائل سے ہی اس عمل کی ویڈیو بنائی۔ملزم نے اپنے بیان میں کہا ’میں جب شام کو مکمل ہوش میں آیا تو میری بیٹی نے کہا کہ مجھے میرے شوہر کے پاس جانے دیں ورنہ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دوں گی، میرے انکار پر تھوڑی دیر کے بعد پولیس آئی اور انھوں نے مجھے گرفتار کر لیا۔‘طلاق کے دعوے کے بارے میں خاتون کا مؤقف ہے کہ ’مجھے شوہر نے طلاق نہیں دی تھی۔ والد نے مجھے اسی وجہ سے بٹھایا ہوا تھا کہ میری کہیں اور بھی شادی نہ ہونے دیں۔‘(بشکریہ : بی بی سی)