لاہور کی جیلوں میں قید ’ خواتین قیدیوں‘ کو افسران کو خوش کرنے کے لیے کیا کچھ کرنا پڑتا ہے؟

لاہور(نیوز ڈیسک ) سوشل میڈیا پرایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں ایک خاتون نےجیلوں میں جنسی ہراسانی کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پنجاب کے محکمہ جیل میں انہیں زبردستی افسروں کو’ خوش ‘کرنے کا کہا جاتا ہے۔ویڈیو میسج میں چہرہ ڈھنانپ کر بات کرتے ہوئے خاتون نے کہا کہ

“وہ لاہور ڈسٹرکٹ جیل میں قید ہیں، ہمارے ساتھ بہت ظلم کرتے ہیں بہت زیادتی کرتے ہیں، ہمیں رات کو لے جاتے ہیں اور کہتے ہیں ڈی آئی جی صاحب ملک مبشر کو خوش کرنا ہے۔ میرے علاوہ اور بھی بہت سی خواتین ہیں جنہیں وہاں لے جایا جاتا ہے اور پھر ایک دوسرے کے ساتھ بدل لیا جاتا ہے اور برے کام کرنے کا کہا جاتا ہے۔اس میں کئی افسران ملوث ہیں۔ ڈی آئی جی کو ان تمام افسران کا پتہ ہے۔ یہ سب ملے ہوئے ہیں کوئی خاتون حاملہ ہوجائے تو اس کا بچہ گرادیا جاتا ہے، ہم وزیراعظم سے اپیل کرتی ہیں کہ وہ جیلوں میں آئیں اور ہماری حالت دیکھیں ہماری مدد کریں۔دوسری جانب ایکسپریس ٹربیون کے مطابق ڈی آئی جی لاہور رینج کے ترجمان محسن نے ویڈیو کو جعلی قرار دیتےہوئے اسے بے بنیاد قراردیاہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے محکمے کو بدنام کرنے کی پہلے بھی کوشش کی جاتی رہی۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں خاتون کا چہرہ دھائی نہیں دے رہا اس لیے تحقیقات کے بنا یہ کہنا درست نہیں کہ یہ ویڈیو واقعی جیل میں بنی ہے یاکہیں اور، اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد محکمہ میں ہلچل کا سماں ہے اور تحقیقات کا آغاز بھی ہوچکا ہے، پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ جو بھی اس شرمناک کام میں ملوث ہوا اسککے خلاف سخت سے سخت ایکشن لیا جائے گا، کسی بھی نہیں چھوڑا جائے گا چاہہے وہ کتنا ہی بڑا افسر کیوں نہ ہو، معافی نہیں دی جائے گی۔