’’ اگر کھانے کو کچھ نہ ملا تو بچوں سمیت خودکشی کرلوں گا۔۔۔‘‘ ریلوے کا قلی غربت کے ہاتھوں مجبور ، دل جھنجوڑ دینے والی خبر

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )کرو نا وائرس کی دنیا بھر میں تباہ کاریاں جاری ہیں ، جہاں لوگ کرونا وائرس سے متاثر ہور ہے ہیں وہیں غریب عوام کی مشکلات میں شدت کیساتھ اضافہ آتا جارہا ہے ۔ اس حوالے سے ایک ریلوے میں قلی کا کام کرنے والے شخص برہان الدین اور کا بیان سامنے جس میں اس نے

کہا ہے کہ میرے گھر نوبت فاقوں تک پہنچ گئی ہے اگر کھانے کو کچھ نہ ملا تو بچوں سمیت خودکشی کر لوں گا ۔ برہان الدین ریلوے میں قلی کا کام کرتا ہے کرونا وائرس کی وجہ سے بے روزگارہو گیاہے ۔برہان الدین نے کہا ہے کہ وہ ایبٹ آباد کا رہنے والا ہے اور 1968ء میں لاہور آیا اس کے بعد ریلوے میں قلی بن گیا ۔ اس کا کہنا تھا کہ جب سے ملک میں لاک ڈائون ہوا ہے جب سے ریلوے بند ہوئی ہے تو اس کی کمائی روک گئی ہے روزانہ کما کر اپنے بچوں کیلئے کچھ کھانے کو لاتا تھا ۔ نجی ویب سائٹ کو انٹرویو میں اس کا کہنا تھا کہ اس کے تینوں بچے پڑھتے ہیں ، میری کمائی انتہائی محدود ہے لیکن پھر بھی اس سے گزارا کر رہے تھے ملک میں جب سے کرونا وائرس آیا تب سے کام ختم ہو گیا اور گھر میں کھانے کیلئے کوئی چیز نہیں بچی نہ ہی کوئی دوسرا ذریعہ آمدن ہے جس سے پیسے کما کر اپنے بچوں کا پیٹ پال سکوں ۔ براہان الدین کی اہلیہ نے روتے کہا ہے جب میرے بچے روتے اور بلکتے ہوئے کھانا مانگتے ہیں تو روح چھلنی ہو جاتی ہے اور کلیجہ پھٹتا نہیں لیکن رہتا کچھ بھی نہیں ہے ۔ رشتہ دار کہتے ہیں ہمارے اپنے پاس کچھ نہیں اب تو گھر کے حالات اتنے خراب ہو گئے ہیں ایک روٹی تک پورے گھر کو میسر نہیں ہوتی ۔براہان اور ان کی اہلیہ نے روتے ہوئے مخیر حضرات اور حکومت سے درد مندانہ اپیل ہے کہ اگر ان کی مددکی جائے ورنہ اس کے بچے بھوک سے مر جائیں اگر ایسا نہ ہوا تو وہ انہیں روتا دیکھ کر انہیں کچھ کھلا کر اللہ کے سپرد کردے اور خود بھی اپنی زندگی کا خاتمہ کر لے ۔