مرشد پیارے! چھوڑ دے غصہ مان بھی جا ناں!تجھ کو تپتی ریت پرمشکیزہ تھامے،خون میں ڈوبےشبیرؓ کا واسطہ،پیاسے ، بلکتے اورسسکتےاصغر ؓ کا واسطہ۔۔۔!! کورونا وائرس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے نامور کالم نگار ایثار رانا کا آنسو بہاتا کالم

لاہور ویب ڈیسک) پوری دُنیا اس وقت کورونا کی لپیٹ میں ہے، ہر کوئی اس موذی مرض سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہے، بڑے بڑے سپر پاور ملک اس جرثومے کے سامنے بے بس ہیں، ایسے میں پاکستان کے سینئر صحافی ایثار رانا نے اپنے رب کے حضور ایک منفرد التجا کی ہے اور یہ التجا ایسی ہے کہ ہر کوئی پڑھ کر آمین کہے بنا نہیں رہ سکتا ۔

سب کالم نگار ان دنوں کالم لکھ رہے ہیں لیکن ایثار رانا نے منفرد طریقے سے دعائیہ کالم تحریر کیا ہے، ایثار رانا تحریر کرتے ہیں کہ مرشد من جا !چھڈ دے غصہ،نہ کر پیارے!بہت ماڑے ہیں،تیری رضا کے چور بہت ہیں،ہمارے پلے نہ اربوں کھربوں ڈالر، طبی سہولتیں نہ وسائل،
مرشد ہم مارے جائیں گے۔

تباہ حال ہیں،ہمارے پلے ککھ نہیں رہنا،مادی وسائل ایک طرف
ہم تو کردار میں بھی،زیرو بٹا زیرو،نل بٹا نل ،تو چاہے تو بس ایک کن
بس ایک کن،اور سب کچھ بدل جائے،یہ دھڑکتا دل سنبھل جائے،
مرشد پیارے!نہ کر یار!ہمارے پلے ککھ نہیں،اس جوگے نہیں،
کہ تیرے غضب کی ایک ہلکی سی جھلک بھی برداشت کرسکیں،بھوک ننگ افلاس،کورونا کا عذاب،قادر مطلق،رب کریم!غفور و رحیم، نہیں جھل پائیں گے،ہم کہ دھوکے باز،حرص کے مارے۔

بے رحم بے عقل،نفرت کی آگ میں پگھلے،بے مراد بے شکل،مرشد پیارے!مان بھی جا!تجھ کو تیرے پیاروںکا واسطہ
اس کا واسطہ،جو تیری رضا کیلئے،صفا و مروا پر تڑپتی رہیںوہ جو ریت پہ،ایڑیاں رگڑتے رہے،مرشد سوہنے!اس لمحے کا واسطہ،جب تیری رضا کے بندے نے،اپنے جگر گوشے کی گردن پرچھری چلائی،
مرشد موہن!چھوڑ دے غصہ مان بھی جا ناں،تجھ کو تپتی ریت پر
مشکیزہ تھامے،خون میں ڈوبےشبیرؓ کا واسطہ!پیاسے ، بلکتے اورسسکتے
اصغر ؓ کا واسطہ!سب سے بڑھ کرحسین ؓکا واسطہ،وہی حسینؓ جوتیرے پیارے کاسب سے پیارا تھا،جلے ہوئے خیموں کا واسطہ،گھبرائی اور تڑپتی
سکینہ ؓکا واسطہ،مرشد من جا!چھوڑ دے غصہ،تیری پکڑ کے جوگے کہاں ہیں۔

بہت برے ہیں،بہت برے ہیں،دیکھ لے کتنے بھٹکے ہوئے ہیں،اب بھی اس وقت،ابتلا کی گھڑی میں،ورلڈ بینک اورآئی ایم ایف کا،رستہ دیکھ رہا ہے،مرشد سوہنے!مرشد من موہنے!تو نہ مانا تو،تیرے نبی کے نام لیوا،تیرے نبی کے ماننے والے،لٹ جائیں،مر جائیں گے،مرشد سوہنے!سب سے بڑھ کر،سب سے اول سب سے آخر،تجھ کو تیرے اس پیارے کا،راج دلارے کا۔جو ہم جسے بدکاروں کی بخشش
اور فلاح کے نام کےلیے،غار حرا میں روتا رہتا تھا،وہی جو تیرا سب سے پیارا،اس کائنات کا راج دلارا،واسطہ تجھ کو
شمس الضحیٰ کا،بدرالّد جی کا،نور الہدی کا،خیرالوریٰ،دافعالبلا کا والوباء،واسطہ تجھ کو صلّی علیٰ کا۔معافی دے،پکڑ کر اپنی ڈھیلی کرو، معافی دے دے
معافی دے دے۔