بیرون ملک میں پھنسے پاکستانیوں کی سُنی گئی۔۔!! وزیر اعظم عمران خان کا شاندار اعلان، واپسی کا طریقہ کار طے پا گیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو ایک ہی وقت میں واپس نہیں لا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت وسائل اور سہولیات کی کمی کی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہیں ہے اور اس سے کورونا مزید پھیل سکتا ہے اس لیے منصوبہ بندی کی گئی ہے کہ پاکستانیوں کو 4 تاریخ سے چھوٹے چھوٹے گروپس میں وطن واپس لانے کی منصوبہ بندی کرلی ہے تاکہ سکریننگ کے عمل کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ اب ہمیں یہ معلوم ہو گیا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے 75 فیصد کیسز باہر سے آگے ہیں اور 15 فیصد کیسز ایسے ہیں جو پاکستان میں پھیلے، ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ برطانیہ سمیت دیگر ممالک میں پھنسے ہمارے طلباءاور ان کے والدین کا بہت دباﺅ ہے لیکن شکر ہے کہ ہم نے یہ دباﺅ نہیں لیا۔

پہلے یہ منصوبہ بنایا تھا کہ انہیں پاکستان لا کر حاجی کیمپ میں ٹھہرایا جائے لیکن اگر ایسا کرتے تو وہ دوسرا تفتان بن جانا تھا۔

بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کا دباﺅ اب بھی موجود ہے اور ہم انہیں 4 تاریخ سے آنے دینا چاہتے ہیں لیکن صرف اتنے ہی لوگوں کو آنے دیں گے جن کی سکریننگ کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے کورونا ریلیف وزیراعظم فنڈ قائم کردیا، انہوں نے کہا کہ مخیرحضرات اور اورسیز پاکستانیوں کو چاہیے کہ اس فنڈ میں پیساجمع کروائیں، لوگ خود جاکر بھی پیسے خرچ کرسکیں گے،حکومت ان کوبتائے گی کہ ضرورت کہاں ہے؟ انہوں نے قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ آج مغرب کیلئے کورونا بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

امریکا نے 2000ارب ڈالر ریلیف پیکج دے رہا ہے، جبکہ ہمارے پاس تو کل ٹیکس کلیکشن 45ارب ڈالر ہے۔پہلے کبھی اسی چیز پاکستان میں ہوئی ہی نہیں، یہ پہلی بار ایسا ہوا ہے، آج سے دو ہفتے پہلے ہم نے قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ کی اور لاک ڈاؤن شروع کردیا، مجھے جو خدشہ تھا وہ یہ تھا کہ ہم لاک ڈاؤن کا کہہ رہے ہیں تو ہمیں سوچ سمجھ کر چلنا چاہیے تھا ، مجھے خوف تھا کہ ہمارے غریب لوگ ، کچی بستیاں ، رکشہ اور ٹیکسی چلانے والوں کو کیا ہوگا؟ ان کیلئے بڑا مشکل ہوجائے گا۔