کرونا میں مبتلا خاتون نے ہزاروں افراد کے ساتھ کیا کیا ؟مریض نمبر اکتیس کی دکھ بھری داستان

کورونا وائرس کے خوف نے دنیا بھر میں ہونے والی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے جبکہ ملک بھر میں نمازوں اور خاص طور پر نمازِ جمعہ کے لئے بھی منع کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے کئی علماء کرام نے فتویٰ بھی دیا ہے جبکہ کچھ لوگ اس فیصلے پر کافی تنقید کرتے بھی دکھائی دے رہے ہیں۔لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ جنوبی کوریا میں انتہائی افسوس ناک واقعہ اس

وقت پیش آیا جب وہاں ہونے والی مجلسوں کے اجتماع پر پابندی نہیں لگائی گئی۔ہوا کچھ یوں کہ ساؤتھ کوریا میں ایک خاتون جن کو مریض نمبر اکتیس کا نام دیا گیا ہے، کورونا وائرس سے متاثر تھیں۔ انہوں نے 9 اور 16 فروری کے دو مسلسل اتواروں کو چرچ کی عبادتی مجلس میں شرکت کی۔اس کے بعد جنوبی کوریا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک دم سے ہزاروں تک پہنچ گئی۔ اس تعداد کو تیس سے ہزاروں تک پہنچانے کی ذمہ دار یہ خاتون تھی جس نے چرچ سروس میں شریک ہوکر سینکڑوں لوگوں کو یہ وائرس لگایا جن سے مزید ہزاروں لوگوں تک یہ وائرس منتقل ہوگیا۔کہتے ہیں کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔یہ بات بالکل درست ہے۔ حالیہ دنوں میں کورونا کی وبا کے بعد اس کی کئی مثالیں ہمارے سامنے آئی ہیں جیسے کہ کئی اداروں کا اپنے ملازمین کو آفس آنے کی بجائے گھر بیٹھے کام کرنے کی اجازت دینا وغیرہ ہے۔ایک طرف یہ صورت حال ہے اور دوسری جانب یہ معاملہ بھی ہے کہ کچھ لوگ کورونا وائرس سے خوف زدہ ہونے کی بجائے اپنی زندگی کو غیر یقینی جانتے ہوئے زندگی کے ایک ایک لمحے سے خوشی کشید کررہے ہیں اور وہ خوشیاں جو کورونا کے باعث تاخیر کا شکار ہورہی تھیں، ان کو خوشیوں کو قبل از وقت ہی حاصل کر کے کورونا کا منہ چڑا رہے ہیں۔حال ہی میں ایک برطانوی جوڑے نے کورونا کی وبا کے باعث اپنی شادی کی تقریب ایک ماہ قبل ہی منعقد کرلی اور چونکہ کورونا کی وبا کے باعث لوگوں کے اکھٹے ہونے پر پابندی تھی اس لیے مذکورہ برطانوی جوڑے نے اپنی شادی کی تقریب کو فیس بک پر براہ راست نشر کردیا۔اس مقصد کے لیے کرسٹین ( دلہن ) اور رچرڈ گروم ( دلہا ) نے فیس بک پر اپنے 100 مہمانوں کو اسٹریم کیا۔ کرسٹن اور رچرڈ گروم نے اپریل میں اپنی شادی کی پلاننگ میں 18 ماہ گزارے لیکن اپنی شادی کی اصل تاریخ کو خطرات کو محسوس کرتے ہوئے وہ اس سے پہلے ہی ہفتے کو سینٹ میتھیوز چرچ والسال میں ازدواجی بندھن میں بندھ گئے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے سروسز کو منسوخ کرنے کے اعلان کی وجہ سے ہم نے موقع سے فائدہ اٹھایا۔ چرچ کی ایڈمنسٹریٹر کے مطابق رچرڈ نے دیکھا کہ برطانیہ کی صورتحال خراب ہو رہی ہے تو اس نے اس نے شادی کی تاریخ کو آگے بڑھانے کا آئیڈیا بھی پیش کیا تھا ۔رچرڈ کے مطابق ہم نے اپنی شادی کو پرفیکٹ بنانے کے لیے تقریباً دیڑھ سال کا عرصہ لگایا ، تاہم جب ہم نے دیکھا کہ طے شدہ تاریخ کو شادی ہونا ممکن نہیں اور کورونا کے باعث جب وزیراعظم نے پچھلے ہفتے پابندیاں عائد کرنا شروع کیں تو ہمیں اندازہ ہوا کہ اب اپریل میں شادی کرنے کا کوئی راستہ نہیں، لہٰذا ہم نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا۔ کرسٹین دیگر 12 افراد کے ساتھ ایک شیئرڈ ہائوس میں رہ رہی تھیں۔ ان سب نے اس شادی کی تمام تر تیاری کرنے میں چار دن مدد کی۔ شادی پر پہننے کیلئے مجوزہ سوٹ وقت پر تیار نہیں تھا تو کرسٹین کے ہاؤس میٹس نے ایک اور ذریعہ استعمال کیا اور اس کے ساتھ ساتھ تصاویر اور پھولوں کا اہتمام بھی کیا۔ صرف یہ ہاؤس میٹس اس جوڑے کی شادی میں شرکت کرنے والے مہمان تھے جبکہ دوسروں کو فیس بک پر شادی کی براہ راست سٹریم کے ذریعے شریک کیا گیا۔کرسٹین کا کہنا تھا کہ جن لوگوں سے ہم نے بات کی تو وہ سب یہ مانتے ہیں کہ فاصلے پر ہونے کے باوجود وہ سب خود کو اس تقریب کا حصہ محسوس کر رہے تھے۔ ہمیں اس پر خوشی ہے کہ ہمارے پاس یہ آپشن دستیاب تھا۔شادی کی رسومات انجام دینے والے ریو جم ٹروڈ کا کہنا تھا کہ ایمانداری سے میں خود کو اس وقت کافی جذباتی محسوس کر رہا تھا جب وہ بیماری اور صحت میں وعدے کر رہے تھے اور ان کا یہ کہنا ایک طاقت ور چیز تھی۔قارئین ہم آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ کورونا کے باعث قبل وقت ہونے والی یہ پہلی شادی نہیں ہے بلکہ برطانیہ میں مصنف اور بی بی سی کے براڈ کاسٹر یاور عباس نے گزشتہ ہفتے 100 سال کی عمر میں 60 سالہ معروف مصنفہ اور ڈائریکٹر نور ظہیر سے شادی کی ہے۔ان کی شادی 27 مارچ کو طے تھی لیکن کورونا کے باعث جب انہوں نے دیکھا کہ شہر کے حالات بگڑ رہے ہیں اور پابندیاں لگتی جارہی ہیں تو انہوں نے 17 مارچ کو ہی شادی کرلی ۔نور ظہیر معروف ترقی پسند مصنف سجاد ظہیر کی صاحب زادی ہیں۔ یہ بات دل چسپ سے خالی نہ ہوگی کہ یاور عباس کی یہ چوتھی جب کہ نور ظہیر کی پانچویں شادی ہے۔آگے آگے دیکھیے کہ کورونا کے باعث دنیا میں مزید کتنی اور کیسی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔