’’ ہم نے کس کا گریبان پکڑنا ہے۔۔‘‘ کہنے والے ’ محمد مالک ‘ کی متنازعہ تصاویر وائرل، سینئر صحافی شدید تنقید کی زَد میں آگئے

لاہور( نیوز ڈیسک) کچھ روز قبل وزیر اعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں سے ملاقات کی، ملاقات میں سینئر صحافیوں نے بڑی کوشش کی کہ وزیر اعظم عمران خان سے میڈیا پر لگائی پابندیوں، حکومتی فیصلوں، میر شکیل الرحمان کی گرفتاری پر بات کی جائے۔

وزیر اعظم عمران خان نے بھی بڑے تحمل کے ساتھ صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیا ، ساتھ صحافیوں سے اپیل بھی کی ملک اس وقت کورونا کی لپیٹ میں ہے، اس پریس بریفنگ اور ملاقات کا مقصصد صرف اور صرف لوگوں تک آگاہی پہنچانا ہے کہ کس طرح وہ کورونا جیسے مرض سے محفوث رہ سکتے ہیں۔

سسینئر صحافی ارشاد بھٹی اور رؤف کلاسرا کو بھی وزیر اعظم عمران خان نے خاموش کرا دیا وہ اور بھی مجبوراً کورونا سے متعلق ہی سوال کرتے رہے
ایسے میں سینئر اینکر پرسن محمد مالک نے نے وزیر اعظم سے سوال کیا کہ آپ کہتے ہیں، ملک میں لاک ڈاؤن نہیں کر سکتے، اسی رات ڈی جی آئی ایس پی آر نے آکر کہہ دیا ملک لاک ڈاؤن کرنے جا رہے ہیں، صوبے بھی لاک ڈاؤن کرتے جا رہے ہیں، تو میں یہ پوچھنا چاہتے ہوں کہ اس ملک میں فیصلے کون کرتا ہے، ہم نے کس کا گرییبان پکڑنا ہے؟ جس پر وزیر اعظم عمران خان نے بڑے تحمل سے جواب دیا

محمد مالک کا یہ جملہ ” کہ ہم نے کس کا گریبان پکڑنا ہے” پاکستانیوں کی جانب سے اس فقرے اور کو انتہائی بد تہذیب قرار دے دیا گیا۔ جس کے بعد محمد مالک پر سوشل میڈیا پر نا رکنے والی تنقید کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔

پاکستانیوں کی جانب سے محمد مالک کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے کہ کیا کوئی شخص ملک کے حکمران کے سامنے بیٹھ کر ایسے الفاظ استعمال کر سکتا ہے؟ یہ بد تہذیبی نہیں تو اور کیا ہے؟ پھر کہتے ہیں پاکستان میں میڈیا آزاد نہیں ہے، صحافیوں پر پابندیاں لگائی جا رہا ہے ، یہ کس طرح کی آزادی مانگتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر محمد مالک کی طرح طرح کی میمز اور دیگر تصاویر شیئر کر کے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جو کہ یہاں شیئر نہیں کی جاسکتی ۔