اہم ترین ملک میں مذہبی پیشوا کے کہنے پر درجنوں افراد نے کورونا سے بچنے کیلئے ڈیٹول پی لیا۔۔۔بڑی تعداد میں ہلاکتیں

نیروبی(ویب ڈیسک) کورونا وائرس سے بچنے کے لیے کینیا میں ایک پیشوا نے اپنی پیروی کرنے والوں کو ڈیٹول پینے کا مشورہ دیا جس پر عمل کرتے ہوئے کئی افراد نے ڈیٹول کو پی لیا جس کے نتیجے میں 59 افراد ہلاک ہوگئے۔کینیا پولیس کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک پیشوا

نے لوگوں کو کورونا کے خطرات سے بچا کے لیے ڈیٹول پینے کا مشورہ دیا جس سے ہلاکتیں ہوئیں اور 4 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔ کینیا کی پولیس نے موقف اختیار کیا ہے کہ تمام تر افراد کی عقیقدت پوپ کے ساتھ جڑی تھی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پوپ نے انہیں ڈیٹول پینے پر آمادہ کیا ۔ ڈیٹول پینے والوں کی تعداد 63 ہے تاہم ان میں سے 59 افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ جبکہ 4 افراد کو انتہائی نگہداشت یونٹ میں رکھا گیا ہے۔ جن کی حالت تشوشناک ہے۔ کورونا وائرس کے سر اٹھانے کے بعد سے ہی مختلف ممالک کے چھوٹے اور پسماندہ علاقوں میں مختلف ٹوٹکے اپنائے جا رہے ہیں۔ تاہم ہمیں ویکسیئن کی دریافت تک احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونا ہوگا۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بھی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر چلنے والے مفروضوں میں کوئی حقیقت نہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے مختلف مفروضوں کو کرونا وائرس سے جوڑے جانے پر جواب دے دیا ۔ عالمی ادارہ صحت کے جاری کردہ بیان کے مطابق گرم یاٹھنڈے پانی سے نہا کر وائرس سے نہیں بچا جا سکتا ۔ اس بات میں بھی کوئی حقیقت نہیں کہ کرونا وائرس گرم علاقوں میں نہیں پھیلتا ، ساتھ ہی ساتھ لہسن کا استعمال بھی کرونا سے بچاوٴ نہیں روکتا۔ تاہم لہسن صحت کیلئے مفید ہے ۔ کرونا وائرس سے بچاوٴ کے لئے صرف صاف رہنے کی ضروری ہے ۔ اپنے ہاتھو ں کو بار بار دھو ئیں۔ کرونا وائرس سے صرف احتیاط کرکے ہی بچا جا سکتا ہے۔ وائرس مچھروں او مکھیوں سے بھی نہیں پھیلاتا۔ اپنے منہ اور آنکھوں کو چھونے سے گریز کریں۔عالمی ادارہ صحت نے خود پر اور کپڑوں پر الکوحل چھڑکنے سے منع کردیا ۔ جاری بیان میں کہا گیا کہ کرونا وائرس سے بچنے کیلئے ویوز کا استعمال الرجی پیدا کر سکتا ہے۔