آپ میڈیا کے خلاف کیوں ہیں؟رؤف کلاسرا اور ارشاد بھٹی کا میر شکیل الرحمان سے متعلق سوال، وزیر اعظم عمران خان نے لائیور پریس کانفرنس میں ہی سینئر صحافیوں کو کھری کھری سُنا دیں

لاہور( نیوز ڈیسک) رؤف کلاسرا کے وزیراعظم عمران خان کے میر شکیل الرحمان ، ایران سے آنیوالے زائرین اور زلفی بخاری سے متعلق سخت سوالات، وزیراعظم عمران خان کے رؤف کلاسرا کو جواب

ارشاد بھٹی نے وزیراعظم عمران خان پر طنز کرنے کی کوشش کی تو وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگر آپ نے کرونا کے علاوہ کوئی اور ایجنڈا لینا ہے تو ابھی ہم میڈیا ٹاک ختم کردیتے ہیں۔

ارشاد بھٹی نےو زیراعظم عمران خان پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم میر شکیل پر بھی بات نہیں کرتے، میڈیا پر پابندیوں کی بات بھی نہیں کرتے۔ پیمرا کی بھی بات نہیں کرتے۔

رؤف کلاسرا نے سوال پوچھا کہ آپکی پالیسی پر بہت تنقید ہوئی خاص طور پر زلفی بخاری والی، آپ نے لاک ڈاؤن اور بارڈر سیل نہیں کیا جس طرح آپکو سیل کرنا چاہئے تھا۔ آپکی کوئی تیاری نظر نہیں آئی، کوئی ایمرجنسی اور سیٹپس نظر نہیں آئے۔

رؤف کلاسرا نے مزید پوچھا کہ آپ میڈیا کے خلاف تھے، آپ میڈیا کے خلاف قوانین بناتے رہے، آپ کے کیبنٹ کے ہرایجنڈے میں یہی رہا ہے۔ اسکے علاوہ میر شکیل الرحمان آپ کے ذہن میں تھا کہ ہم نے دیکھا کہ آپ نے اسے گرفتار کرنا ہے۔

انکو گرفتار کیا گیا، ڈاکٹر دانش کا پروگرام بند کروایا گیا۔ آپکی میڈیا کیساتھ لڑائی ہے، آپکے پاس دو تین مہینے کا بہت ٹائم تھا جسے آپ استعمال کرسکتے تھے لیکن نہیں کیا۔

اس پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس ایشو کو استعمال کریں تاکہ لوگوں کو کرونا کے ایشو پر سمجھ ہو۔ اس وقت پاکستان میں بڑا ضروری ہے، میں آپکو بار بار ایک چیز کہہ رہا ہوں کہ افراتفری نہ مچائیں۔ افراتفری میں غلط فیصلے ہوجاتے ہیں جس کے اثرات کرونا سے بھی برے ہوتے ہیں۔

آپ یہ ساری چیزیں، نام لیکر آرہے ہیں میڈیا کے لوگوں کو۔ جس طرح میڈیا کو پاکستان میں آزادی ہے، میں چیلنج کرتا ہوں ایسی آزادی مغرب میں بھی نہیں ہے۔ میں مغربی جمہوریت کو سمجھتا ہوں جس طرح کے الزام یہاں لگتے ہیں۔ آپ مغرب میں کریں جس طرح کے وہاں قانون ہیں، آپکو جرمانے ہوں گے آپکے اخبار بند ہوجائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے رؤف کلاسرا سے کہا کہ میرے ساتھ میڈیا کی بات نہ کریں، بات کریں کرونا کی۔

ایران اور زلفی بخاری سے متعلق وزیراعظم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایران میں زائرین بالکل تفتان کے بارڈر پر بیٹھے ہوئے تھے، وہ سب پاکستانی تھے، ایران پر پابندیاں تھیں، وہ نہیں سنبھال سکتا تھا اسلئے ہم نے انہیں پاکستان آنے دیا اور ایک ویرانے میں رکھا۔