خبردار ناخن پیلے ہوجائیں تو کون سی خطرناک بیماری آپ کا مقدر بن جائے گی ؟جانئیے

خوبصورت ناخن دوسروں پر کسی کی شخصیت کا اچھا تاثر ڈالنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن بعد لوگوں کے ناخن پیلے اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اب ماہرین نے ان کی وجوہات اور ان سے نجات کا آسان طریقہ بتا دیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ناخنوں کے پیلا ہونے جانے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ کھانوں میں استعمال ہونے والی کچھ

اشیاءبھی ایسی ہیں جو ناخنوں پر لگ جائیں تو ان کی رنگت آہستہ آہستہ پیلی کر دیتی ہیں۔ ان میں ہلدی، سوڈا اور دیگر کچھ کیمیکلز ہیں۔ جب یہ ناخنوں کو لگتے ہیں تو ان پر ایک پیلا دھبہ بنتا ہے جو آہستہ آہستہ پھیلتا چلا جاتا ہے۔اس کے علاوہ کچھ ایسے امراض بھی ہوتے ہیں جن کی وجہ سے ناخنوں کی یہ حالت ہو جاتی ہے۔ اگر آپ کے ناخن ایسے ہو چکے ہیں تو ماہرین کے مطابق سب سے پہلے آپ کو اپنے ناخنوں کی اچھی طرح دیکھ بھال شروع کرنی چاہیے۔ باقاعدگی سے صابن کے ساتھ ناخنوں کی صفائی کریں اور اس کے بعد ان پر ناریل یا بادام کا تیل لگائیں۔ اگر آپ کو فنگل اور الرجک ری ایکشنز کا سامنا ہے تو چائے کے پودے کا تیل ان سے نجات میں آپ کی مدد کر سکتا ہے۔ اس تیل میں اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خصوصیات ہوتی ہیں، جو آپ کے ناخنوں کو ان سے بچا کر خوبصورت بنا سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ آپ کو اپنی خوراک پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ اگر آپ اپنی خوراک میں انڈے، اومیگا 3فیٹی ایسڈز کی حامل اشیائ، بلیو بیریز، بادام، سرخ گوشت اور مگر ناشپاتی وغیرہ شامل کرتے ہیں تو یہ آپ کے ناخنوں کی پیلاہٹ دور کرنے اور انہیں خوبصورت بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ اگر ان تمام چیزوں کے بعد بھی آپ کے ناخنوں کی رنگت اور صحت ٹھیک نہیں ہو رہی تو آپ کو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔مزید پڑھئیے :: فضائی آلودگی ہر کسی کی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوتی ہے تاہم اب سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں اس کا خواتین کے لیے ایک انتہائی سنگین نقصان دریافت کر لیا ہے۔ سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ جو خواتین سڑک کنارے واقع گھروں میں رہتی ہیں وہ دوسری خواتین کی نسبت بہت جلدی بانجھ ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ خواتین جو انتہائی آلودگی والے علاقوں میں رہتی ہیں ان میں بھی جلد بانجھ ہونے کی شرح تیز ہوتی ہے۔رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ”گاڑیوں کے دھوئیں سے نکلنے والی گیسیں، بالخصوص نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ (NO2) خواتین کی افزائش نسل کی صلاحیت کی قاتل ہوتی ہے۔ یہ گیسیں خواتین میں بیضوں کی مقدار اور معیار انتہائی گرا دیتی ہیں جس سے وہ کم عمری میں ہی بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کھو دیتی ہیں۔ “ اٹلی کی یونیورسٹی آف موڈینا کے سائنسدانوں نے اس تحقیق میں 1ہزار 318خواتین پر تجربات کیے جن میں معلوم ہوا کہ مصروف سڑکوں کے کنارے پر واقع گھروں میں رہنے والی ہر 10میں سے 6خواتین کم عمری میں بانجھ ہونے کے خطرے سے دوچار تھیں۔ان کے برعکس مصروف سڑکوں سے دور رہنے والی خواتین میں یہ شرح بہت کم تھی۔