کیا کزن سے شادی پیدا ہونے والے بچوں کے لیے واقعی خطرناک ہے؟ اصل حقیقت جانیے

امریکہ کی 24ریاستوں میں کزنز کی آپس میں شادی قانونی طور پر ممنوع ہے۔ باقی دنیا میں بھی خیال کیا جاتا ہے کہ کزن میرج سے پیدا ہونے والے بچوں کے پیدائشی طور پر جینیاتی امراض کا شکار ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اب سائنسدانوں نے اس خیال کی حقیقت بتا دی ہے۔ بزنس انسائیڈر کے مطابق اگر آپ خاندان سے باہر کسی لڑکی کے ساتھ شادی

کرتے ہیں تو آپ دونوں کا ڈی این اے 0.20فیصد یکساں ہو گا۔ تھرڈ کزن سے شادی میں 0.78فیصد، سیکنڈ کزن سے شادی میں 3.13فیصد اور فرسٹ کزنز کی شادی میں دونوں کا ڈی این اے 12.5فیصد ایک جیسا ہو گا۔رپورٹ کے مطابق اگر ہم فرسٹ کزنز، ان کے ماں باپ اور آگے ان کے ماں باپ کے ڈی این اے کی جمع تفریق کرنا شروع کر دیں تو معاملہ بہت گھمبیر ہو جائے گا۔جینیاتی بیماری سسٹک فائبروسس کی بات کریں تو یہ ماں باپ سے نقص شدہ سی ایف ٹی آر جین بچے میں منتقل ہونے سے لاحق ہوتی ہے۔ اگر ماں باپ میں سے کسی ایک سے یہ جین بچے میں منتقل ہو تو اسے بیماری لاحق نہیں ہوتی۔ اس سارے معاملے کو سائنسدانوں نے سادہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ ”دور کے رشتہ داروں یا خاندان سے باہر شادی کرنے والے لوگوں کے ہاں جینیاتی بیماریوں کے شکار بچے پیدا ہونے کا خطرہ 3سے 4فیصد تک ہوتا ہے، جبکہ فرسٹ کزنز میں یہ خطرہ 4سے 7فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ چنانچہ اس لحاظ سے فرسٹ کزنز کی شادی میں کوئی زیادہ خطرہ نہیں ہوتا۔ تاہم یہ اس وقت زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے جب نسل درنسل فرسٹ کزنز کی شادیاں ہوں۔ اس صورت میں جینیاتی بیماریاں لاحق ہونے کی یہ شرح بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اب تک تو ہم جانتے تھے کہ جو عورت بچے کو جنم دیتی ہے اس کے جسم میں دودھ آتا ہے اور وہ بچے کو پلاتی ہے لیکن آپ یہ سن کر دنگ رہ جائیں گے کہ اب سائنسدانوں نے ایسا طریقہ ایجاد کر لیا ہے کہ اب کنواری عورتیں بھی بچوں کو دودھ پلا سکیں گی۔ یہ کارنامہ امریکی سائنسدانوں نے سرانجام دیا ہے جن کا کہنا ہے کہ عورت کے جسم میں دودھ کی پیداوارکا پراسیس تین طرح کے ہارمونز پرولیکٹن(prolactin)، پروگیسٹرون (progesterone) اور جنسی ہارمون اویسٹروجن (Oestrogen)کنٹرول کرتے ہیں۔اگر جسم میں پرولیکٹن کی پیداوار بڑھا دی جائے تو کسی بھی عورت کے جسم میں دودھ کی پیداوار شروع ہو سکتی ہے جسے وہ بچے کو پلا سکتی ہے، اس کے لیے اس عورت کے لیے بچہ پیدا کرنا لازمی نہیں ہوتا۔ سائنسدانوں نے کئی خواتین پر تجربات کیے۔ انہوں نے ان خواتین کی چھاتیوں پر پمپ لگا دیئے جو ان کے جسم سے دودھ چوستے تھے۔ اس سے ہو بہو ویسا احساس آتا کہ جیسے بچے ان خواتین کا دودھ پی رہے ہوں۔ اس سے ان خواتین کے مذکورہ تینوں ہارمونز کو دودھ پیدا کرنے کی ترغیب ملی اور ان کے جسم میں پرولیکٹن اور دیگر دونوں ہارمونز کی مقدار بڑھنی شروع ہو گئی، جس سے ان کے جسم میں دودھ پیدا ہو گیا۔اس طریقے پر عملدرآمد بھی شروع ہو گیا ہے۔ امریکہ میں جیکلین اور کیلی فیفر نامی دو ہم جنس پرست خواتین اپنے دو جڑواں بچوں کو دودھ پلا رہی ہیں۔ ان جڑواں بچوں کو سپرم عطیہ لے کر کیلی نے پیدا کیا تھا، چنانچہ اس کے جسم میں فطری طور پر دودھ پیدا ہو گیا تاہم جیکلین نے سائنسدانوں کے اس بتائے طریقے پر عمل کرکے اپنے جسم میں دودھ پیدا کیا اور اب دونوں اپنے بچوں کو دودھ پلا رہی ہیں۔ ان کے بچوں کے نام جیکسن اور ایلا ہیں جو رواں سال مئی میں پیدا ہوئے تھے۔