ناک کی ایک سائیڈ بند رہنا خطرناک …!! فوری معالج سے رابطہ کریں‌،ماہرین کا انتباہ

ہماری ناک کی ایک طرف ہر وقت بند رہتی ہے، جس کی وجہ انتہائی حیران کن ہے۔ہماری ناک کی ایک سائیڈ ہمیشہ بند رہنے کی وجہ یہ ہے کہ ناک کی دونوں اطراف کبھی بھی ایک ساتھ برابر کام نہیں کرتیں۔ ایک وقت میں ایک سائیڈ کام کرتی ہے اور پھر وہ دوسری سائیڈ کو آرام کا وقت دیتی ہے اور خود کام کرنا شروع کر دیتی ہے۔جب ناک کی ایک

سائیڈ کام کر رہی ہو تو دوسری سائیڈ سے انتہائی معمولی سانس اندر جاتی اور باہر آتی ہے اور یہ اس سائیڈ کے آرام کا وقت ہوتا ہے۔ ہمارے جسم میں ایک عصبی نظام ہے جو ہمارے دل کی دھڑکن، نظام انہضام، نظام تنفس اور تمام وہ جسمانی افعال جنہیں ہم شعوری طور پر کنٹرول نہیں کرتے، ان کا خیال رکھتا اور انہیں منظم رکھتا ہے۔ یہی نظام ہر چند گھنٹے بعد ہماری ناک کی ایک سائیڈ کو بند اور دوسری کو چالو کر دیتا ہے۔مزید پڑھئیے :: اب تک تو ہم جانتے تھے کہ جو عورت بچے کو جنم دیتی ہے اس کے جسم میں دودھ آتا ہے اور وہ بچے کو پلاتی ہے لیکن آپ یہ سن کر دنگ رہ جائیں گے کہ اب سائنسدانوں نے ایسا طریقہ ایجاد کر لیا ہے کہ اب کنواری عورتیں بھی بچوں کو دودھ پلا سکیں گی۔ میل آن لائن کے مطابق یہ کارنامہ امریکی سائنسدانوں نے سرانجام دیا ہے جن کا کہنا ہے کہ عورت کے جسم میں دودھ کی پیداوارکا پراسیس تین طرح کے ہارمونز پرولیکٹن(prolactin)، پروگیسٹرون (progesterone) اور جنسی ہارمون اویسٹروجن (Oestrogen)کنٹرول کرتے ہیں۔اگر جسم میں پرولیکٹن کی پیداوار بڑھا دی جائے تو کسی بھی عورت کے جسم میں دودھ کی پیداوار شروع ہو سکتی ہے جسے وہ بچے کو پلا سکتی ہے، اس کے لیے اس عورت کے لیے بچہ پیدا کرنا لازمی نہیں ہوتا۔ سائنسدانوں نے کئی خواتین پر تجربات کیے۔ انہوں نے ان خواتین کی چھاتیوں پر پمپ لگا دیئے جو ان کے جسم سے دودھ چوستے تھے۔ اس سے ہو بہو ویسا احساس آتا کہ جیسے بچے ان خواتین کا دودھ پی رہے ہوں۔ اس سے ان خواتین کے مذکورہ تینوں ہارمونز کو دودھ پیدا کرنے کی ترغیب ملی اور ان کے جسم میں پرولیکٹن اور دیگر دونوں ہارمونز کی مقدار بڑھنی شروع ہو گئی، جس سے ان کے جسم میں دودھ پیدا ہو گیا۔اس طریقے پر عملدرآمد بھی شروع ہو گیا ہے۔ امریکہ میں جیکلین اور کیلی فیفر نامی دو ہم جنس پرست خواتین اپنے دو جڑواں بچوں کو دودھ پلا رہی ہیں۔ ان جڑواں بچوں کو سپرم عطیہ لے کر کیلی نے پیدا کیا تھا، چنانچہ اس کے جسم میں فطری طور پر دودھ پیدا ہو گیا تاہم جیکلین نے سائنسدانوں کے اس بتائے طریقے پر عمل کرکے اپنے جسم میں دودھ پیدا کیا اور اب دونوں اپنے بچوں کو دودھ پلا رہی ہیں۔ ان کے بچوں کے نام جیکسن اور ایلا ہیں جو رواں سال مئی میں پیدا ہوئے تھے۔ اب تک تو ہم جانتے تھے کہ جو عورت بچے کو جنم دیتی ہے اس کے جسم میں دودھ آتا ہے اور وہ بچے کو پلاتی ہے لیکن آپ یہ سن کر دنگ رہ جائیں گے کہ اب سائنسدانوں نے ایسا طریقہ ایجاد کر لیا ہے کہ اب کنواری عورتیں بھی بچوں کو دودھ پلا سکیں گی۔ یہ کارنامہ امریکی سائنسدانوں نے سرانجام دیا ہے جن کا کہنا ہے کہ عورت کے جسم میں دودھ کی پیداوارکا پراسیس تین طرح کے ہارمونز پرولیکٹن(prolactin)، پروگیسٹرون (progesterone) اور جنسی ہارمون اویسٹروجن (Oestrogen)کنٹرول کرتے ہیں۔اگر جسم میں پرولیکٹن کی پیداوار بڑھا دی جائے تو کسی بھی عورت کے جسم میں دودھ کی پیداوار شروع ہو سکتی ہے جسے وہ بچے کو پلا سکتی ہے، اس کے لیے اس عورت کے لیے بچہ پیدا کرنا لازمی نہیں ہوتا۔ سائنسدانوں نے کئی خواتین پر تجربات کیے۔ انہوں نے ان خواتین کی چھاتیوں پر پمپ لگا دیئے جو ان کے جسم سے دودھ چوستے تھے۔ اس سے ہو بہو ویسا احساس آتا کہ جیسے بچے ان خواتین کا دودھ پی رہے ہوں۔ اس سے ان خواتین کے مذکورہ تینوں ہارمونز کو دودھ پیدا کرنے کی ترغیب ملی اور ان کے جسم میں پرولیکٹن اور دیگر دونوں ہارمونز کی مقدار بڑھنی شروع ہو گئی، جس سے ان کے جسم میں دودھ پیدا ہو گیا۔اس طریقے پر عملدرآمد بھی شروع ہو گیا ہے۔ امریکہ میں جیکلین اور کیلی فیفر نامی دو ہم جنس پرست خواتین اپنے دو جڑواں بچوں کو دودھ پلا رہی ہیں۔ ان جڑواں بچوں کو سپرم عطیہ لے کر کیلی نے پیدا کیا تھا، چنانچہ اس کے جسم میں فطری طور پر دودھ پیدا ہو گیا تاہم جیکلین نے سائنسدانوں کے اس بتائے طریقے پر عمل کرکے اپنے جسم میں دودھ پیدا کیا اور اب دونوں اپنے بچوں کو دودھ پلا رہی ہیں۔ ان کے بچوں کے نام جیکسن اور ایلا ہیں جو رواں سال مئی میں پیدا ہوئے تھے۔