مٹر گشت میں‌مصروف چیونٹیوں‌کا راز فاش …!! تحقیق نے ساری دنیا کی سوچ ہی بد ل ڈالی

عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ چیونٹیوں ، دیمک اور شہد کی مکھیوں جیسے سماجی کیڑے ہمیشہ کام میں ہی جتے ہوئے رہتے ہیں لیکن درحقیقت ایسا نہیں بلکہ ان کیڑوں کی اکثریت بہت سست ہوتی ہے۔امریکا کی یونیورسٹی آف ایریزونا کے ماہرین نے مغربی کینیڈا اورامریکا میں پائی جانے والی چینٹیوں کی 5 کالونیوں کا مشاہدہ کیا۔ 3 ہفتوں تک کئے گئے

مشاہدے میں ماہرین نے چیونٹیوں کی نقل و حرکت کا تفصیلی جائزہ لیا، اس سلسلے میں ماہرین نے ہرکالونی کی چند چیونٹیوں پرمختلف رنگ ڈال دیئے تاکہ ان کی شناخت کی جاسکے۔ماہرین نےاپنے مشاہدے کے دوران چیونٹیوں کی ہر4 گھنٹے بعد جدید ترین کیمروں کی مدد سے 5 منٹ کی وڈیوز ریکارڈ کیں اوراس دوران ان کے کام کاج کو مختلف درجات میں بانٹ دیا۔ وڈیوزدیکھنے کے بعد ماہرین کو حیرانی ہوئی کالونی میں نقل وحرکت کرنے والی آدھی سے زائد چیونٹیاں پورے دن صر ف گشت ہی کرتی رہیں.ماہرین کا کہنا تھا کہ چیونٹیوں کی نصف تعداد کی کام چوری نے انہیں سوچنے پر مجبورکیا کہ ایسا کیوں ہے۔ جس بارے میں تحقیق کے شریک مصنف ڈینیل کاربونیوکا کہنا تھا کہ ایسا ہونے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں، ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ کام نہ کرنے والی چیونٹیوں کو کارکن چینٹیوں کے متبادل کے طور پرذمہ داریاں سونپی گئی ہوں۔مزید پڑھئیے :: جاپانی پولیس افسر یوکیو شائیگی نے اپنی زندگی مایوسی کے سبب خودکشی کی جانب جانے والے افراد کو اس عمل سے روکنے کے لیے وقف کردی اور اس کام میں انہوں نے 11 سال کے دوران سیکڑوں افراد کو خودکشی سے باز رکھتے ہوئے ان کی جانیں بچائیں اس لیے انہیں جاپان میں ”چوٹے ماٹے مین“ یعنی روکنے والا آدمی بھی کہا جاتا ہے۔جاپان میں خودکشیوں کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور وہاں پولیس افسر یوکیو نے گزشتہ 11 سال میں 500 سے زائد افراد کی جانیں بچائی ہیں وہ جاپان کے مشہور سیاحتی مقام توجنبو کی پہاڑیوں پر گشت کرتے رہتے ہیں جہاں ایک جانب تو لاکھوں سیاح ہرسال آتے ہیں لیکن اسی پہاڑیوں سے کود کر لوگ اپنی زندگی کا خاتمہ بھی کرلیتے ہیں اور زیادہ تر اس مقام پر لوگ خودکشی کے ارادے سے ہی آتے ہیں اور ایسے میں یوکیو اپنے 3 ساتھیوں کے ہمراہ یہاں موجود رہتے اور انہیں خودکشی سے بازرکھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔یوکیو کے مطابق ایک واقعے میں ان کے اہم دوست نے اپنی کار سمیت سمندر میں چھلانک لگا کر خودکشی کی تو انہیں شدید صدمہ ہوا جس کے بعد انہوں نے لوگوں کو خودکشی سے روکنا اپنی زندگی کا مشن بنا لیا کیونکہ ان کے نزدیک خود کرنے والے لوگ بے حد لاچار ہوتے ہیں اور انہیں کسی کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ یوکیو شائیگی نے ایسے افراد کے لیے چند فلیٹ بھی لے رکھے ہیں جہاں وہ اپنی نئی زندگی شروع کرسکتے ہیں۔یوکیو کا کہنا تھا کہ چند سال قبل انہوں نے ایک ایسے بوڑھے جوڑے کو دیکھا جو بری طرح قرضے میں جکڑ اہوا تھا اور اس مقام پر خودکشی کی غرض سے آیا تھا اور اس بات کا علم ہونے پر یوکیو انہیں قومی بہبود کے ادارے لے گئے جہاں انتظامیہ نے ان کی کوئی مدد نہیں کی اور چند دنوں بعد ان دونوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا جس کےبعد یوکیو نے فیصلہ کیا کہ وہ اب ایسے افراد کو اپنے گھر لے جائیں گے اور ان کے مسائل حل کریں گے۔