ایسا درخت جس کو ایٹم بم بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے،طب کے ماہرین نے نئی بحث چھیڑ دی

”جنکجو بلابا“ طب کی دنیا کے مشہور ترین درختوں میں سے ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ پوردا پہلے صرف چین میں پایا جاتا تھا لیکن بعد میں کوریا اور جاپان میں بھی اسے لگایا جانے لگا۔ مختلف بیماریوں کے علاج کے قدیم نسخوں میں اس کا کافی استعمال نظر آتا ہے اور آج کل بھی قدرتی دوائیوں میں اسے باکثر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس درخت کا قد عموماً20-25میٹر ہوتا ہے لیکن چند درخت 50میٹر تک بھی جاپہنچے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ انتہائی نامناسب ماحول میں بھی

افزائش جاری رکھتا ہے۔ ان پربنائی جانے والی ڈاکو منٹری مےں نہایت حیرت انگیز انکشاف یہ کیا گیا ہے کہ جب دوسری جنگ عظیم میں امریکہ نے جاپانی شہر ہیرو شیما پر بم گرایا تو دھماکہ کی جگہ سے قریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ” جنکجوبلوبا“ کے 6درخت لگے ہوئے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایٹمی دھماکے کے بعد یہ 6درخت ان چند جانداروں میں سے تھے جو زندہ بچ گئے تھے جبکہ قریباً دیگر تمام پودے اور جانور مرگئے۔ تاہم یہ درخت بچ گئے اور آج بھی اپنی جگہ پر ہی قائم ہیں۔مزید پڑھئیے :: اسلام آباد(نیوز ڈیسک) اپنے والد کی موت کے صدمے سے چور ایک خاتون نے والد کا احساس ہمیشہ اپنے ساتھ رکھنے کے لیے انوکھا کام کر ڈالا۔ 52سالہ انشورنس سیلز وومن کیٹیااپیلے ٹیگ کے والد 7سال قبل انتقال کر گئے تھے۔کیٹیا کی والدہ اپنے شوہر کی وفات پر اس کا تکیہ منہ سے لگائے روتی رہتی تھیں کیونکہ اس تکیے میں اس کے آنجہانی شوہر کی خوشبو بسی تھی۔ 7سال بعد کیٹیا کو ایک انوکھا کام کرنے کی سوجھی۔ اس نے ایک ایسا پرفیوم بنانے کے لیے کہ جس سے اس کے والد کی خوشبو آتی ہو فرانس کی ایک یونیورسٹی ہیورکےمحققین سے رابطہ کر لیا۔ہیوریونیورسٹی کے محققین کی ایک ٹیم کڑی محنت کے بعد کیٹیا کے والد کے کپڑوں سے اس کی خوشبو لے کربالکل ویسی ہی خوشبو رکھنے والا پرفیوم تیار کرنے میں کامیاب ہو گئی۔کیٹیا کا کہنا ہے کہ خوشبو اور یادوں میں گہرا تعلق ہوتا ہے اسی لیے میں نے اپنے والد کی خوشبو جیسا پرفیوم بنانے کا فیصلہ کیا۔کیٹیا نے کہا کہ اب وہ دوسرے لوگوں کے آنجہانی پیاروں کی خوشبو پر مبنی پرفیوم بنانے کے منصوبے پر کام شروع کر رہی ہیں۔ اس نے کہا کہ اگرچہ یہ کام بہت مہنگا ہے اور اس پر 560یوروز تک لاگت آتی ہے لیکن اپنے بچھڑ جانے والوں کی خوشبو کو ہمیشہ کے لیے اپنے پاس رکھنے کی یہ کوئی بڑی قیمت نہیں ہے۔