مریم نواز کی وجہ سے یہ کام نہیں ہو رہا ۔۔۔!!! شہباز شریف پھٹ پڑے، اپنی بھتیجی کے حوالے سے حیران کُن مطالبہ کر دیا

لاہور (نیوز ڈیسک )پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف میاں محمد شہبازشریف نے مطالبہ کیا ہے کہ مریم نوازکو انسانی ہمدردی پر نواز شریف کے پاس لندن آنے کی اجازت دی جائے۔نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق محمد شہبازشریف نے محمد نوازشریف کی صحت سے متعلق بیان میں کہا کہ نوازشریف کی

صحت بدستور تشویشناک اور غیرمستحکم ہے، ان کے علاج کے لئے ضروری عمل میں دو مرتبہ تبدیلی کرنا پڑی کیونکہ ان کی صاحبزادی مریم کو پاکستان سے آنے کی اجازت نہیں دی گئی جو ایسے وقت میں اپنے والد کے پاس ہونا چاہتی ہیں۔شہبازشریف کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی صحت کی صورتحال نازک ہے، شریک حیات کھودینے کے شدید غم نے ان کی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب کئے، اپنی زندگی کے اس مشکل ترین وقت میں مریم نواز ان کے لئے ڈھارس بنیں۔شہبازشریف نے مزید کہا کہ انتہائی افسوسناک ہے کہ انہیں اپنے والد کی دیکھ بھال کے لئے آنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے، مریم کے نواز شریف کے پاس نہ ہونے کی بنائ پر ماہر امراض قلب کو دو بار ’کارڈیک کیتھیٹرائزیشن‘ کا طے شدہ عمل تبدیل کرنا پڑا، جتنا وقت گزررہا ہے اتنا ہی طبی عمل کے لئے گنجائش کم ہورہی ہے، میاں صاحب کی صحت کی تشویشناک حالت کے پیش نظر مریم نوازکو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اپنے والد کے پاس آنے کی اجازت دی جائے۔ دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف نے صاحبزادی مریم نواز کی غیر موجودگی میں آپریشن کروانے سے انکار کردیا ہے۔نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف کی انجیو پلاسٹی لازمی ہو گئی ہے۔نواز شریف کے دل کا ایک حصہ متاثر ہے۔میاں نواز شریف کا آپریشن دو بار ملتوی ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے مریم نوازکی غیر موجودگی میں آپریشن کروانے سے انکار کر دیا ہے۔نواز شریف نے اپنی خواہش سے ڈاکٹروں کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔نواز شریف کا کہنا ہے کہ مریم نواز شریف پاس ہوں گی

تو آپریشن کراؤں گا۔انہوں نے کہا کہ مریم نواز کے نہ پہنچنے پر نواز شریف نے آپریشن موخر کرایا۔یکم فروری کو جاری ایک بیان میں نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے کہا تھا کہ سابق وزیراعظم کی حتمی میڈیکل رپورٹس 30 جنوری کو تیار کی گئیں۔ڈاکٹر عدنان نے کہا کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کی نوٹری پبلک اور پاکستانی ہائی کمیشن نے تصدیق کی ۔ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم کی صحت کے حوالے سے میڈیکل رائے اور اسکین رپورٹ بھی قانونی طور پر تصدیق شدہ ہیں۔ یاد رہے کہ محکمہ داخلہ پنجاب نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو تین روز کے اندر مکمل میڈیکل رپورٹیں جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کے نام خط میں محکمہ داخلہ نے کہا تھا کہ میڈیکل بورڈ نے پہلے بھیجی گئی رپورٹس کا جائزہ لیا ہے، تاہم وہ رپورٹیں حتمی رائے قائم کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ خط میں کہا گیا تھا کہ آپ تین روز کے اندر مکمل رپورٹیں جمع کروائیں تاکہ مجاز اتھارٹی انہیں چیک کرسکے۔ سابق وزیراعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے کہا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کارڈیک علاج کیلئے آئندہ چند روز میں ہسپتال میں داخل ہوں گے۔ڈاکٹر عدنان نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہاکہ حالیہ آنے والی روبیڈیم کارڈیک پیٹ سکین کی رپورٹ میں دل کی شدید بیماریوں کی نشاندہی ہوئی ہے،نوازشریف کے دل کا علاج کرنے والی ٹیم نے اہم پیچیدہ کورونری شریانوں میں رکاوٹوں کا علاج کرنے کے لئے کارڈیک کیتھیٹائزیشن کا منصوبہ بنایاہے۔