بیٹی کی سالگرہ والے دن باپ نے ایسا کیا دیکھ لیا کہ درندہ بن گیا اور کچھ دیر بعد بیوی سمیت زندگی کی بازی ہار گیا ؟ بھارت سے ایک شرمناک خبر

ممبئی (ویب ڈیسک) بھارتی پولیس نے 23 بچوں کو یرغمال بنانے والے شخص کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔ اس شخص نے اپنی بیٹی کی سالگرہ کے بہانے بچوں کو اپنے گھر مدعو کیا اور بعد میں انہيں یرغمال بنا لیا۔ یہ واقعہ بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش کے ایک گاؤں میں پیش آیا۔

پولیس ترجمان آنند شرما کے مطابق یرغمال بنائے گئے تمام 23 بچوں کو بازیاب کرا لیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق بچوں کو یرغمال بنانے والے اس شخص کا نام سبھاش باتھم تھا اور وہ قتل کے ایک مقدمے میں ضمانت پر رہا تھا۔ بچوں کو یرغمال بنانے کے بعد یہ شخص حکام سے مطالبہ کر رہا تھا کہ اس کے خلاف قتل کا مقدمہ ختم کیا جائے۔مقامی افراد نے بعد ازاں پولیس کارروائی میں ہلاک ہونے والے سبھاش کی اہلیہ کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیس ترجمان آنند شرما نے تاہم ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی کہ اس خاتون کو پتھر برسا کر قتل کر دیا گیا ہے۔بھارت کے این ڈی ٹی وی کے مطابق گاؤں کے لوگوں نے جب سبھاش باتھم کی بیوی کو موقع واردات سے فرار ہوتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے اس پر پتھر اور اینٹیں برسائیں۔ یہ خاتون بعد ازاں زخموں کو تاب نہ لاتے ہوئے آج جمعے کو انتقال کر گئی۔آنند شرما کے مطابق سبھاش نے جمعرات 30 دسمبر کی شام بچوں کو اپنے ہاں یہ کہہ کر مدعو کیا کہ وہ اپنی ایک سالہ بیٹی کی سالگرہ منا رہا ہے اور جب تمام بچے وہاں پہنچ گئے تو اس نے گھر کو بند کر لیا اور بچوں کو بندوق کی نوک پر یرغمال بنا لیا۔دنیا بھر میں دہشت گردی سے متاثر ممالک میں افغانستان اس برس سر فہرست رہا۔ سن 2018 کے دوران افغانستان میں 1443 دہشت گردانہ واقعات ہوئے جن میں 7379 افراد ہلاک اور ساڑھے چھ ہزار افراد زخمی ہوئے۔ 83 فیصد ہلاکتیں طالبان کے کیے گئے حملوں کے سبب ہوئیں۔ طالبان نے پولیس، عام شہریوں اور حکومتی دفاتر کو نشانہ بنایا۔ داعش خراسان کی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا۔ افغانستان کا جی ٹی آئی اسکور 9.60 رہا۔پولیس ترجمان کے مطابق، ”ہم نے اس سے بات چیت کی کوشش کی مگر وہ مشتعل تھا اور اس نے گھر کے اندر سے فائرنگ کی جبکہ خود سے تیار کردہ بم بھی دکھایا۔ رات بھر جاری رہنے والے اس سلسلے کے بعد بالآخر یہ شخص پولیس کی فائرنگ سے مارا گیا۔‘‘ شرما کے مطابق اس دوران دو پولیس والے زخمی بھی ہوئے۔پولیس کے مطابق یرغمال بنائے گئے تمام بچے محفوظ ہیں جن کی عمریں چھ ماہ سے لے کر 15 برس تک کے درمیان ہے۔بھارتی میڈیا نے پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سبھاش کا کہنا تھا کہ وہ بے قصور ہے اور یہ کہ گاؤں کے لوگوں نے اسے اس مقدمے میں غلط طور پر پھنسایا۔ اس لیے وہ گاؤں والوں سے بدلہ لینا چاہتا تھا۔