سفاکیت کی انتہا ہوگئی ۔۔۔۔۔ نابالغ بچے پر پٹرول ڈال کر کیوں جلایا گیا وجہ سامنے آگئی

فجیرہ(ویب ڈیسک ) متحدہ عرب امارات میں بچوں اور بچیوں سے جنسی زیادتی اور جنسی ہراسگی کے واقعات کوئی نئی بات نہیں ہے۔ تاہم اچھی بات یہ ہے کہ ایسا کرنے والے قانون کے شکنجے سے محفوظ نہیں رہ سکتے اور انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی سڑنا پڑتا ہے اور غیر مُلکی ہونے کی صورت میں انہیں سزا بھُگتنے کے فوراً بعد ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے۔

مگر اب اماراتی ریاست میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس نے سب کو حیرت میں ڈال دیا ہے کہ کیا لوگ سفاکی کی اس حد کو بھی چھُو سکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق فجیرہ میں چند نامعلو افراد نے 9 سالہ کے بچے پر پٹرول چھڑک کر اُسے آگ لگا دی جس کے باعث وہ بُری طرح جھُلس گیا۔ اگر بچہ چیخ و پُکار نہ کرتا اور ہمسائے اس کی مدد کو نہ آتے تو وہ مزید چند لمحوں بعد پُوری طرح جھُلس کر ابدی نیند سو جاتا۔
تاہم اس کے شور مچانے پر یہ درندہ صفت لوگ جائے واردات سے فرار ہو گئے اور ہمسایوں نے بچے کو لگی آگ بُجھا کر اسے فوری طور پر ہسپتال پہنچا دیا۔ جہاں اُس کا علاج کیا جا رہا ہے اور اب اس کی حالت تشویش ناکی کی کیفیت سے باہر نکل کر آہستہ آہستہ بہتری کی جانب جا رہی ہے۔ اس متاثرہ اماراتی بچے کا نام عبداللہ سعید المرشدی بتایا جا رہا ہے جس کا اس وقت دُبئی کے لطیفہ ہسپتال کے برن یونٹ میں علاج جاری ہے۔9سالہ المرشدی نے بتایا کہ وہ فجیرہ میں اپنے گھر کے باہر کھیل رہا تھا۔ جب تین نامعلوم افراد وہاں پر آئے اور کوئی بات پُوچھنے کے بہانے اُسے اپنے پاس بُلایا۔ جونہی وہ اُن کے قریب گیا ، ان تینوں ظالموں نے اسے قابو کر لیا۔ المرشدی نے مزاحمت میں انہیں ٹانگیں ماریں اور ساتھ ساتھ چیخ و پکار بھی کرتا رہا۔ تاہم ان لوگوں نے اسے مضبوطی سے پکڑے رکھا اور اُس کے چہرے، بازوؤں اور ٹانگوں پر پٹرول اُنڈیل کر اُسے آگ لگا دی۔ خُدا کی مہربانی سے اتنی دیر میں اُس کی چیخ و پکار سُن کر ہمسائے گھروں سے باہر آئے اور آگ بُجھا کر اسے فوری ہسپتال لے گئے، ورنہ اُس کی جان فوری طور پر ضائع ہو جاتی۔