مودی کو لینے کے دینے پڑگئے ، کشمیر میں بغاوت نے زور پکڑ لیا،جلد مودی حکومت کا تختہ الٹنے والا ہے

سرینگر (ویب ڈیسک )یوروپی یونین کے ممالک جمعرات کو حکومت ہندوستان کے دعوت نامے پر جموں و کشمیر آنے والے غیر ملکی سفراکی ٹیم کا حصہ نہیں ہیں۔بھارتی حکومت نے کشمیر کی موجودہ صورت حال کی تحقیق کے لیے امریکی سفیر سمیت 16 رکنی وفد کو جموں و کشمیر کے دورے کی دعوت دی ہے۔ جس کے بعد یورپی سفارتی ذرائع نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے ممالک کے

سفیر جموں و کشمیر کا سرکاری دورہ نہیں چاہتے ہیں بلکہ وہ آزادانہ طور پر وہاں کی صورتحال کا جائزہ لینے کے خواہاں ہیں۔ وہ ان لوگوں سے ملاقات کے خواہشمند ہیں جن سے وہ ملنا چاہتے ہیں۔سرکاری ذرائع نے میڈیا کو بتایا کہ یوروپی یونین کے سفیروں نے جموں و کشمیر کے دورے کے خیال کا خیرمقدم کیا ہے، لیکن ان میں سے بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس بار انہیں مختصر نوٹس پر دورے کی دعوت دی گئی ہے۔ اور وہ بعد میں آزادانہ طور پر جانے کے منتظر ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں زمینی صورتحال میں بڑے پیمانے پر بہتری کی توقع ہے۔بھارتی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت دیئے گئے ریاست کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے اور اسے دو مرکزی علاقوں میں تقسیم کرنے کے تین ماہ بعد اکتوبر 2019 میں یوروپی یونین کے ارکان پارلیمان کو جموں و کشمیر کا دورہ کرایا تھا، جس کا مقصد صورتحال کا جائزہ لینا تھا۔القمرآن لائن کے مطابق اس دورے کے دوران وہ مقامی لوگوں سے ملے اور سکیورٹی فورسز کے ذریعہ انہیں بریفنگ دی گئی تھی۔جمعرات یعنی 9 جنوری 2020 سے شروع ہونے والے اس دو روزہ دورے کے لئے بھی اسی طرح کے شیڈول کا منصوبہ بنایا گیا ، جس میں امریکہ، لاطینی امریکہ اور افریقہ کے 16 سفیر شامل ہیں ۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق آسٹریلیا اور متعدد خلیجی ممالک کے سفارت کار وں کو اس میں شامل ہونا تھالیکن حالات کی سنگینی کی بنا پر انہیں اس دورے میں شامل نہیں کیا گیا۔ان کا کہنا ہے کہ ‘ہم لوگوں سے اپنی مرضی کے مطابق آزادانہ طور پر ملنا چاہتے ہیں’۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ایک عہدیدار نے بتایا کہ کچھ سفیر تین سابق وزرائے اعلی فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سے بھی ملاقات کے خواہشمند ہیں۔ جو مرکز کی جانب سے پانچ اگست 2019 کو اس اقدام کے اعلان کے بعد سے حراست میں ہیں۔کشمیر کے سیاسی رہنماں کی قید اور انٹرنیٹ پر پابندی ان وجوہات میں شامل ہیں جنہوں نے بیرون ملک خدشات کو جنم دیا ہے۔وزارت داخلہ کے ذرائع نے میڈیا کو بتایا کہ ان خدشات کو دور کرنے کے لیے حکومت نے دو روزہ دورے کا انتظام کیا ہے۔حکومت نے کہا ہے کہ پانچ اگست کو پارلیمنٹ میں حکومت کے اس اقدام کے بارے میں مرکزی وزیر امیت شاہ کے اعلان سے پہلے رکھی گئی پابندیوں کا مقصد امن و امان کو نقصان پہنچانے کے کسی بھی مسئلے کو روکنے کے لئے تھا۔اکتوبر میں، حکومت نے یوروپی یونین کے 23 قانون سازوں کو جموں و کشمیر جانے کی اجازت دی تھی۔ تب تک اپوزیشن کو ریاست کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کی سربراہی میں ایک وفد سری نگر ہوائی اڈے سے واپس کردیا گیا تھا۔