خفیہ ایجنسیوں کا ٹارچر سیل : ایک خبر کا سورس معلوم کرنے کے خفیہ کے اہلکاروں نے حامد میر کے ساتھ ایسا کیا کیا کہ انہوں نے چند منٹ بعد ہی ہاتھ کھڑے کر دیے ۔۔۔۔۔۔ انٹرویو میں انکشاف

لاہور (انتخاب : شیر سلطان ملک ) نامور صحافی اور کالم نگار اپنے ایک انٹرویو میں بتاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیرئیر کی شروعات میں سب سے بڑی مشکل ہی یہ تھی کہ میں وارث میر کا بیٹا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں لاہور ”جنگ“ نیوز روم میں گیا۔ وہاں جو لوگ تھے،

ان میں جنرل ضیاء الحق کے کئی حامی تھے۔ بہت مزاحمت ہوئی۔ ان میں سے ایک سب ایڈیٹر تھے، انہوں نے اپنی ڈاڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا:”ہم دیکھ لیں گے۔“ بعد میں ان کے ساتھ اچھی دوستی ہوگئی۔ اگرچہ ایسا بھی نہیں تھا کہ سارے ہی مخالف تھے، ان میں میرے ہمدرد بھی تھے۔ لیکن مزاحمت کا سامنا بہرحال زیادہ رہا۔ میں نے لیکن گھبرانے کے بجائے اپنی کارکردگی پر زیادہ توجہ دی۔ آٹھ کے بجائے سولہ گھنٹے کام کیا۔ ایسا بھی ہوا کہ نیوز روم میں آٹھ گھنٹے کام کیا، اس کے بعد دفتر میں بیٹھ کر یا گھر آکر میگزین کا کام شروع کردیا۔ میں ترجمہ کرتا تھا اور اس کی شہرت پورے دفتر میں پھیل چکی تھی۔ میگزین میں میری تحریریں چھپنا شروع ہوئیں۔ پھر ایک بات یہ بھی تھی کہ مجھے جو بھی کام دیتا، میں بخوشی لے لیتا۔ ”آپ کا ترجمہ بہت اچھا ہے، یہ ذرا مضمون ہمیں ترجمہ کرکے دے دیں۔“ میگزین والے کسی بھی وقت کہہ دیتے۔ میں ان سے کام لے لیتا۔ اگلے دن کہا جاتا کہ اس موضوع پر لکھ کر بھی دے دیں، وہ بھی کردیتا۔ اس طرح تسلسل کے ساتھ میری تحریریں چھپنے لگیں۔ مثلاً: پیر کے دن سیاسی ایڈیشن میں تحریر چھپی ہے،

منگل کے دن ملی ایڈیشن میں آگئی۔ خواتین ایڈیشن کی انچارج میرے والد صاحب کی سابقہ طالبہ تھیں۔ وہاں مرد کا نام نہیں چھپ سکتا تھا، ”ح م“ کے نام سے کسی مضمون کا ترجمہ آگیا۔ میں چونکہ کرکٹر بھی تھا۔ اسپورٹس انچارج شاہد شیخ صاحب مجھ سے اپنے ایڈیشن کے لیے کچھ لکھوالیتے۔ اس طرح میں ”ریلو کٹا“ بن گیا۔مجھے یاد ہے جب بہت زیادہ نام چھپنا شروع ہوا تو معروف صحافی نثار عثمانی صاحب مرحوم نے مجھ سے کہا: یہ ٹھیک نہیں کہ ہر جگہ تمھارا نام چھپ رہا ہے۔ کم ازکم خواتین ایڈیشن میں تو نام چھپوانے سے گریز کرو۔ میں ان سے کہتا میں نہیں چاہتا کہ ہر جگہ میرا نام چھپے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مجھ سے انکار نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا: اب کام کے ساتھ ”انکار“ بھی سیکھو۔ انکار نہیں کرسکتے تو کم ازکم یہ تو کہہ سکتے ہو کہ نام کا مخفف بھی نہ چھپے۔ سارا شہر جانتا ہے کہ ”ح م“ کون ہے۔ اسپورٹس کے صفحے کے لیے بھی یہی کہا کہ نام نہیں آنا چاہیے۔ مجھ میں انکار کی ہمت نہیں تھی۔ یہ فن مجھے نثار عثمانی صاحب نے سکھایا۔ آہستہ آہستہ میں نے انکار بھی سیکھا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے

کہ وارث میر کا بیٹا ہونے کے ناتے کچھ لوگوں کی ہمدردیاں ضرور تھیں، لیکن اس وجہ سے مشکلات بھی بہت آئیں۔ مجھے اس کا شدید احساس تھا اور اسی وجہ سے 1987ء سے 1992ء تک بہت محنت بھی کی۔ میں نے چھٹی بھی بہت کم ہی کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس محنت میں میرا کرکٹ کا stamina بھی کام آ رہا تھا۔ میں کرکٹ میں اوپننگ بیٹسمین اور وکٹ کیپر تھا۔ پہلے بیٹنگ کرنا اور پھر 50 اوورز تک وکٹ کیپنگ، بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ مگر جسمانی مشقت کی عادت نے مجھے صحافت میں زیادہ دیر تک کام کرنے کا عادی بنایا۔ لوگ بہت حیران ہوتے تھے کہ یہ اکیلے اتنا کام کیسے کرلیتا ہے۔ اگست 1990ء کی بات ہے۔ میں ایک نوجوان رپورٹر تھا۔ میں نے جنگ لاہور میں ایک شام خبر فائل کی کہ صدر غلام اسحق خان نے بے نظیر حکومت برطرف کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ خبر نیوز ایڈیٹر خاور نعیم ہاشمی صاحب کے پاس پہنچی تو انہوں نے پڑھتے ہی اس پر دوسرے کاغذ رکھ دیے تاکہ کوئی دیکھ نہ سکے۔ یہ بہت بڑی خبر تھی۔ ہاشمی صاحب نے مجھ سے ”سورس“ پوچھا۔ مختلف سوالات کیے۔ جس طرح ایک نیوز ایڈیٹر اپنے رپورٹر سے کرتا ہے۔ کہنے لگے:

اس میں فلاں کا ورژن بھی ڈالو۔ میں نے کہا: اس طرح تو خبر رُک جائے گی۔اچھا! تو مینوں سورس دس دے“۔میں نے ان سے کہا: ”سورس“ دونوں طرف کا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کا۔ پوچھا: دونوں کہہ رہے ہیں کہ حکومت جا رہی ہے؟ میں نے کہا: جی دونوں کہہ رہے ہیں کہ حکومت برطرف ہو رہی ہے۔ انہوں نے ”حکومت کے سورس“ پر زیادہ زور دیا۔ کہنے لگے: حکومتی سورس خواجہ طارق رحیم تو نہیں؟ میں نے کہا: وہی ہیں! میں طارق رحیم کی کافی خبریں فائل کرچکا تھا۔ وہ اس وقت وزیر پارلیمانی امور تھے۔ جمعہ کو لاہور چلے جاتے تھے۔ تین دن وہاں گزارتے۔ مجھے ان سے اہم خبریں مل جاتیں۔ خیر! خبر فائل کرکے میں اپنے کاموں میں مصروف ہوگیا۔ تھوڑی دیر بعد خبر دیگر اسٹیشنوں کے لیے چلی گئی۔ لاہور سے راولپنڈی اسٹیشن پہنچی تو ہلچل مچ گئی۔ تقریباً آٹھ، ساڑھے بجے رات کے وقت میں دفتر میں بیٹھا تھا۔ فون کی گھنٹی بجی، ریسپشن سے بتایا گیا کہ کچھ لوگ آپ سے ملنے آئے ہیں۔ میں سمجھا میرا کوئی ”سورس“ ہوگا۔ میں نے استقبالیہ (reception) پر بتایا کہ انھیں اوپر بھیج دیں۔ دوسری طرف سے کہا گیا کہ وہ آپ سے نیچے ہی ملنا چاہ رہے ہیں۔ جب میں نیچے گیا

تو ایک آدمی نے مجھ سے ہاتھ ملایا، گاڑی کا دروازہ یکدم سے کھلا اور مجھے کھینچ کر اس میں اندر پھینک دیا۔ مجھ پر کمبل ڈالا اور ”کمبل کٹ“ کا محاورہ مجھ پر صادق آنے لگا۔اسی حال میں مجھے ایک جگہ لے جایا گیا۔ جتنا وقت لگا اور راستے میں جو بدبو آرہی تھی، اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ یہ ظفرعلی روڈ کا علاقہ ہے۔ مجھے اندر کسی گھر یا دفتر میں لے گئے، مارنا شروع کر دیا۔ پوچھنے لگے: خبر کہاں سے ملی ہے؟ میں نے انجان بن کر کہا: کون سی خبر؟ کہنے لگے: ”بھولے بن رہے ہو!“ اور تھپڑ مارنے لگے۔ میں سمجھ گیا کہ یہ ایجنسی کے لوگ ہیں، البتہ یہ معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ کس ایجنسی سے تعلق رکھتے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد ایک سوٹڈ بوٹڈ آدمی اندر آیا۔ کہنے لگا: بتادو خبر کس نے دی ہے؟ ورنہ ہم بہت ماریں گے۔ جس طرح ایک نوجوان صحافی ہوتا ہے، اسے مار پڑتی ہے، سورس پوچھا جاتا ہے اور انکار میں وہ کہتا ہے: میں تمہیں سورس نہیں بتاؤں گا۔ میں نے بھی وہی انداز اختیار کیا اور صاف انکار کر دیا۔ ”یہ ایسے نہیں مانے گا، اُتارو اس کے کپڑے۔“ یہ کہا اور زبردستی میرے کپڑے اُتارنے کے لیے جھپٹ پڑے۔

میں تشدد سہ سکتا تھا، لیکن یہ میرے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ میں نے کہا: میں بتاتا ہوں میرا سورس کون ہے؟ دوسری طرف سے انکار ہوا اور کہا گیا اب تو کپڑے اُتریں گے۔ میرے کپڑے اُتارے گئے، لٹا کر مجھے مارنا شروع کردیا۔خوب مار کے بعد کہا: اب بتاؤ سورس؟ میں نے کہا: اب تو بالکل نہیں بتاؤں گا۔ کہنے لگے: ابھی تو بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ میں نے کہا: اس سے زیادہ کیا کرلیں گے؟ کہنے لگے: اس کے علاوہ انڈروئیر بھی اُتاریں گے۔ میں پھر ہل گیا اور کہا: میں سورس بتاتا ہوں۔ میں نے طارق رحیم صاحب کا نام لیا۔ پھر بھی جان نہیں چھوٹی۔ کہنے لگے کہ تمھارا سورس ایک نہیں، دوسرے کا نام بھی بتا دو۔ ”انہیں آخر کیسے پتا چلا کہ دوسرا سورس بھی ہے“ میری پریشانی مزید بڑھی۔ ”تم نثار عثمانی کے پاس بہت اُٹھتے بیٹھتے ہو۔ وہ ہمیشہ نوجوان صحافیوں سے کہتے ہیں کہ خبر کو ڈبل چیک کرو۔ یقیناً دوسرا سورس بھی ہوگا۔“ انہوں نے وضاحت کی۔ ”یہ عام لوگ تو نہیں۔ انہیں ہماری اندر کی باتیں تک معلوم ہیں۔ انہیں یہ بھی پتا ہے کہ میں نثار عثمانی صاحب کے پاس اُٹھتا بیٹھتا ہوں۔“ میں دل ہی دل میں پکار اُٹھا۔

میں نے ان سے کہا: نثار عثمانی صاحب پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے صدر ہیں اور میں ایک صحافی، ان کے پاس آنا جانا رہتا ہے۔ ان کا اصرار مگر یہی تھا کہ دوسرا سورس بتاؤ۔ میں انہیں دوسرا سورس بتانا نہیں چاہ رہا تھا، اس لیے کہ وہ غیرمحفوظ اور حساس تھا۔ سیاست سے ہی ان کا تعلق تھا۔ میرا خیال یہ تھا کہ دوسرے سورس کا نام بتا دیا تو میں بدنام ہوجاؤں گا۔ اس کا نام آج آپ کو بتا ہی دیتا ہوں، وہ تھے اعجاز الحق۔ ہمارا خاندان چونکہ ضیاء الحق مارشل لا کے خلاف مزاحمت کے لیے مشہور تھا، سو مجھے یہ خوف دامن گیر ہوا کہ لوگ کیا سوچیں گے۔ دراصل اس کی کہانی بھی کچھ یوں تھی کہ اعجاز الحق کسی تقریب میں ملے۔ حال احوال پوچھا، باتوں باتوں میں کہنے لگے: یہ حکومت جا رہی ہے۔ یہ ایک طرح سے ٹپ تھی، میں نے اس پر کام شروع کیا تو ایک بڑی خبر بن گئی۔اغوا کرکے لے جانے والوں نے پھر مجھے مارنا شروع کر دیا۔ جب بہت مار پڑی اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا تو کہا: اتنی مار کھانے کے باوجود دوسرا سورس نہیں بتا رہے؟ میں نے کہا: اگر میں نے بتا دیا تو میری بہت بدنامی ہوجائے گی۔ کہنے لگے:

تیرا سورس کوئی طوائف ہے جو بدنامی ہوگی؟ میں نے کہا: نہیں! میرا سورس اعجاز الحق ہیں۔ وہ ہنسنا شروع ہوگئے۔ مختصر یہ کہ جان چھوٹی، انہوں نے مجھے اُٹھایا، کپڑے پہننے کو دیے اور گاڑی میں بٹھا کر کچھ دور پھینک دیا۔ میں جب کھڑا ہوا تو میرا اندازہ بالکل درست ثابت ہوا تھا، یہ ظفر علی روڈ کا ہی علاقہ تھا۔ مجھ سے میرا بٹوہ چھین لیا گیا تھا۔ میرے پاس گھر پہنچنے کے لیے کرایہ بھی نہیں تھا۔ پیدل چلنا شروع کیا اور گھر تک بڑی مشکل سے پہنچا۔ والدہ نے دیکھا، میرے جسم پر نیل پڑے ہیں۔ انھوں نے دودھ میں ہلدی ڈال کر مجھے دیا، بام لگائی۔ اس وقت میں نے اپنی والدہ سے کہا: ”ابو صحیح کہتے تھے کہ یہ صحافت اچھی چیز نہیں۔“ میں نے کہا: بندہ فوج میں جائے، ملک کے لیے غازی یا شہید ہوجاتا ہے۔ سیاسی کارکن جیل چلا جائے تو اسے زیادہ سے زیادہ مار پڑ جاتی ہے، لیکن یہاں تو کپڑے اُتر جاتے ہیں۔ یہ میرے لیے بہت ہی تضحیک آمیز ہے۔ میری والدہ نے کہا: بیٹا! یہاں صرف صحافیوں کے نہیں، سیاست دانوں کے بھی کپڑے اُترتے ہیں اور پھر تاریخ ان کے کپڑے اُتارتی ہے۔ ”پہلی بات یہ ہے کہ تمہیں صحافت میں آنا نہیں چاہیے تھا۔ تمھارے باپ نے تمھیں روکا تھا۔ اب اگر آ کر بھاگوگے تو لوگ کہیں گے وارث میر کا بیٹا خوفزدہ ہوکر بھاگ گیا۔“ والدہ نے مجھے کہا اور ساتھ ہی حبیب جالب کے پاس جاکر ان سے مشورہ لینے کا بتایا۔(ز،ط)