کراچی سے حیران کن خبر

کراچی(ویب ڈیسک) انویسٹی گیشن پولیس نے ڈیفنس میں مبینہ طور پر خود موت کو گلے لگانے والی ڈاکٹر ماہا کے کیس میں ایک گروپ کے 4 کارندوں کو گرفتار کرلیا۔بتایا جار ہا ہے کہ یہ ملزمان ڈاکٹر ماہا کو پراسرار اشیاء فراہم کرتے تھے ۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشن ساؤتھ بشیر بروہی نے بتایا

کہ انویسٹی گیشن پولیس نے آن لائن اس خرید و فروخت میں ملوث 4 ملزمان سعد اللہ، جماعت عرف ناصر، بلال اور اویس کو گرفتار کیا ہے جن کے قبضے سے مال بھیkokane برآمد کر لیا ہے گرفتار ملزمان آن لائن دھندے میں ملوث ہیں اور گرفتار ملزم سعد اللہ نے ڈاکٹر ماہا کو kokane سپلائی کی تھی جس کا سراغ کال ڈیٹا ریکارڈ (سی ڈی آر) کی مدد سے لگایا گیا۔ انہوں ںے بتایا کہ kokane سمیت دیگر ایسی اشیاء کی فراہمی کے عوض ملزمان بھاری معاوضہ وصول کرتے تھے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان کا گروہ آن لائن آرڈر ملنے کے بعد آدھے گھنٹے سے پون گھنٹے کے اندر ڈیلیوری پہنچا دیتے تھے جب کہ رقم کی وصولی اسی وقت کی جاتی ہے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل اس دھندے کی آن لائن ڈیلیوری کرنے والے گروہ میں ایک خاتون کے بھی ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں جس کے بعد پولیس نے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے اور خاتون سمیت دیگر ملزموں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار کارروائیاں جاری ہیں۔یاد رہے کہ ڈاکٹر ماہا نے مبینہ طور پر اپنے حالات کی وجہ سے دلبرداشتہ ہو کر خود موت کو سینے سے لگا لیا تھا ۔