پاکستان کو نوبل انعام سے نواز دیا گیا ۔۔۔ انعام کی اصلیت آپ کو خوش کر نے کی بجائے آگ بگولہ کر دے گی

لندن(ویب ڈیسک) دنیا بھر میں جہاں مختلف سائنسی تحقیق اور کامیابیوں پر ایوارڈز دیے جاتے ہیں اسی طرح ہر سال مزاحیہ تحقیق اور واقعات پر اگ نوبیل پرائز بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔اگ نوبیل پرائز کے نام سے مزاحیہ انعامات دینے کا سلسلہ1991 میں شروع کیا گیا تھا جس میں 10 غیر معمولی سائنسی تحقیقات

اور واقعات کو انعامات سے نوازا جاتا ہے۔ان ایوارڈز کا بنیادی مقصد’لوگوں کو شروع میں ہنسانا پھر انھیں سوچنے پر مجبور کرنا’ بتایا جاتا ہے۔مذکورہ ایوارڈ کا نام نوبیل انعامات کی پیروڈی پر رکھا گیا اور ان کے ذریعے سامنے لائی جانے والی اکثر تحقیقات کا مقصد حقیقی زندگی کے مسائل سے نمٹنا جبکہ یہ مستند جرائد میں شائع بھی ہوتی ہیں۔ان انعامات کا مرکز امریکا کی ہاورڈ یونیورسٹی کا سینڈرز تھیٹر ہے اور ہر سال ان کی تقریب ہنگامہ خیز ہوتی ہے۔ایوارڈ کی تقریب میں اکثر ایک چھوٹی سی لڑکی بھی شامل ہوتی ہے جو کسی بھی ایسے شخص کو ’بورنگ‘ کی آوازیں لگاتی ہے جبکہ ہال میں زیادہ تر لوگ کاغذ کے ہوائی جہاز اڑا رہے ہوتے ہیں۔تاہم کورونا وائرس کی وجہ سے ایوارڈز کی تقریب آن لائن ہوئی لیکن اصل نوبیل انعام یافتہ افراد نے شمولیت بھی کی۔رواں برس جہاں مختلف کیٹیگریز میں اگ نویبل ایوارڈز کا اعلان کیا گیا وہیں امن کا مزاحیہ انعام پاکستان اور بھارت کو دیا گیا ہے۔یہ ایوارڈ دینے کا پس منظر یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے سفارت کار آدھی رات میں ایک دوسرے کے گھروں کی گھنٹیاں بجا کر بھاگ جاتے ہیں۔مذکورہ واقعہ 2018 میں پیش آیا تھا اور اس حوالے سے برطانوی اخبار دی گارجین کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان نے دہلی میں موجود ہائی کمشنر کو ایک دوسرے پر ہراسانی کے الزامات کے باعث واپس بلالیا تھا۔تاہم ہراسانی کے الزامات میں ہائی کمیشن کے دفتر کی گاڑیوں کا پیچھا کرنا، پانی اور بجلی کے پائپ اور تاریں کاٹنا اور رات

کے 3 بجے سینئر سفارت کاروں کے گھروں کی گھنٹیاں بجا کر بھاگ جانا شامل تھا۔گھر کی گھنٹی بجا کر بھاگنے کی شکایت اسلام آباد میں موجود بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ نے کی تھی اور دہلی میں موجود پاکستانی ہم منصب نے بھی یہی شکایت کی تھی۔رواں برس 17 ستمبر کو مزاحیہ سائنسی جریدے ’اینلز آف امپروبِبل ریسرچ‘ میں اگ نوبیل انعامات کی فہرست جاری کی گئی جو 18 ستمبر کو آن لائن منقعد ہوئے۔یال رہے کہ ہر فاتح ٹیم کو 10 کھرب ڈالر کا نقد انعام دیا جاتا ہےتاہم یہ 10 کھرب رقم زمبابوے کی کرنسی میں دیے جاتے ہیں۔اس سال صوتی تحقیق کا اگ ایوارڈ اسٹیفن ریبر، ٹاکیشی نشیمورا، جوڈتھ جینش، مارک رابرٹسن اور ٹیکسمے فچ کود دیا گیا۔انہوں نے اپنے تجربے میں ہیلیئم گیس سے بھرے چیمبر میں ایک مادہ مگرمچھ کو داخل کیا تھا اور یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ مگرمچھ آپس میں کیسے بات چیت کرتے ہیں۔نفسیات کا ایوارڈ میرانڈا گیاکومن اور نکولس رول نے حاصل کیا، انہوں نے بھنوؤں کی جانچ کے ذریعے خود پسند افراد کی شناخت کرنے کا طریقہ ڈھونڈ نکالا۔امن کے انعام کی حقدار بھارت اور پاکستان کی حکومتیں قرار پائیں جن کے سفارتکار آدھی رات کو ایک دوسرے کے گھروں گھنٹیاں بجا کر بھاگ جاتے تھے۔ایوان میکسیموگ اور اینڈری پوٹوٹسکی نے طبیعات کا انعام حاصل کیا، انہوں نے یہ جاننے کے لیے تجربہ کیا تھا جب کیچوے کو زیادہ فریکوئنسی پر وائبریٹ کیا جائے تو اس کی شکل کیسی ہوتی ہے۔کرسٹوفر واٹکنز اور ان کے 8 ساتھیوں نے معیشت کی کیٹیگری میں انعام حاصل کیا،

جنہوں نے مختلف ممالک کی قومی آمدن میں عدم مساوات اور بوسے کی اوسط مقدار کے مابین تعلقات جاننے کی کوشش کی تھی۔چین کے شہر ژی گوانگ ان میں مو ٹیان ژیانگ، یانگ کانگ-شینگ، یانگ گوانگ-شینگ اور لنگ ژیان شی، پانچ پیشہ ور قاتلوں کو منیجمنٹ کا اعزاز دیا گیا، جنہوں نے ایک قتل (معاوضے کے عوض) کا معاہدہ کیا تھا، انہوں نے ایک ہی قتل ایک، دوسرے کے ذمے لگایا تھا لیکن آخر میں کسی نے وہ قتل نہیں کیا تھا۔رچرڈ ویٹر نے اینٹومولوجی (حشرات سے متعلق علم) میں یہ اعزازز حاصل کیا، انہوں نے اس بات کے شواہد جمع کیے کہ کئی اینٹومولوجسٹ مکڑیوں سے ڈرتے ہیں جبکہ مکڑیوں کا شمار کیڑوں میں نہیں ہوتا۔طب کی تعلیم کا اعزاز برازیل کے صدرجائر بولسو نارو، برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن، بھارتی وزیراعظ نریندر مودی، میکسیکو کے صدر آندریز مینویئل لوپیز اوبراڈو ، بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو، امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ترکی کے صدر رجب طیب اردوان، روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور ترکمانستان کےصدر گربنگولی بردی محمدوو کو دیا گیا۔انہیں یہ مزاحیہ اعزاز اس بنیاد پر دیا گیا کہ انہوں نے دنیا کو یہ سکھانے کے لیے کورونا وائرس کی وبا کا استعمال کیا کہ سائنسدانوں اور ڈاکٹروں کے مقابلے میں سیاست دانوں کی زندگی اور موت پر فوری اثر ہوتا ہے۔میٹین ایرین، مشیل بیبر، جیمز نورس، ایلیسا پیرون، ایشلے رٹکوسکی، مائیکل ولسن اور میری این راگھانتی نے دھاتوں کی کیٹیگری میں انعام حاصل کیا۔انہوں نے اپنے تجربے میں یہ ثابت کیا تھا کہ برف کی مانند منجمد انسانی فضلے سے تیار کردہ چاقو صحیح طرح کام نہیں کرتے۔