کارل مارکس سے پوچھا گیا تو غصے میں بولے “کدفع ہوجاؤ! آخری الفاظ وہ احمق ادا کرتے ہیں، جو زندگی میں اپنی بات پوری طرح نہ سنا پائے ہوں۔ ” کے علاوہ باقی مشہور شخصیات کے بسترِ مرگ پر آخری الفاظ کیا تھے؟

لاہور(ویب ڈیسک) موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ ایک ایسی حقیقت جس سے نظریں تو چرائی جاسکتی ہیں، لیکن اس سے مفر ممکن نہیں۔ ہر خاص و عام، ادنیٰ و اعلیٰ، طاقت ور اور کم زور ایک روز اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہوجائے گا اور کوئی ان کا نام لیوا بھی نہ ہو گا، لیکن کچھ لوگ اپنی ہمّت،

عزم و استقلال اور اپنے نمایاں‌ کاموں اور کارناموں کی بدولت تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔یہاں‌ ہم ان مشہور اور نہایت قابل شخصیات کا ذکر کررہے ہیں‌ جنھوں نے بسترِ مرگ پر بھی ہمّت کا ثبوت دیا اور اپنی مضبوط قوتِ ارادی ظاہر کرتے ہوئے دوسرے انسانوں‌ کو اپنے آخری الفاظ کی صورت ایک سبق اور نصیحت کرگئے۔معروف جرمن فلسفی، ماہرِ اقتصادیات اور عمرانیات کے لیے مشہور کارل مارکس سے فلسفے، سیاسی اور سماجی علوم کا ہر ادنیٰ طالبِ علم واقف ہے۔مشہور ہے کہ بسترِ مرگ پر تھا اس کے ایک گھریلو ملازم نے اس کی حالت دیکھتے ہوئے سوچا کہ شاید اس کے دل میں کوئی بات ہو، وہ اپنی کوئی آخری خواہش بیان کرنا چاہتا ہو اور اسی غرض سے اس نے دریافت کیا کہ کیا اس وقت آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں؟ جس پر کارل مارکس نے غصؑے سے کہا۔“دفع ہوجاؤ! آخری الفاظ وہ احمق ادا کرتے ہیں، جو زندگی میں اپنی بات پوری طرح نہ سنا پائے ہوں۔”اس کے چند لمحات بعد ہی کارل مارکس ہمیشہ کے لیے سو گیا۔ یہ 1883 کی بات ہے۔کارل مارکس سے ایک سال پہلے موت کا ذائقہ چکھنے والے چارلس ڈارون کو اس کے نظریہ ارتقا کی وجہ سے شہرت بھی ملی، اسے سراہا بھی گیا اور اس نے طنز اور طعنے بھی سنے۔ 19 ویں صدی کے برطانوی سائنس دان چارلس ڈارون کی کتاب ‘اوریجن آف اسپیشیز’ کی اشاعت نے دنیا کو انسان سے متعلق ایک مختلف رائے اور موضوعِ بحث دیا اور آج بھی اس پر مباحث کا سلسلہ جاری ہے۔ڈارون طبیعیات اور ارضیات کے علم کا ماہر تھا جس نے 1882 میں اپنی موت سے قبل کہا تھا:مجھے مرنے سے ڈر نہیں لگتا۔”