مسلم لیگ (ن) پھر زور پکڑنے لگی : اعلیٰ قیادت نے سیف الملوک کھوکھر کو اعلیٰ عہدے سے نواز دیا

لاہور(ویب ڈیسک)مسلم لیگ (ن) لاہور کی تنظیم سازی کا عمل مکمل ہونے کے بعد 5نئے سینئر نائب صدور اور ایک ایڈیشنل جنرل سیکرٹری کا اعلان کردیا ہے۔ صوبائی حلقوں کے صدور و سیکرٹریز کے لئے 20اگست سے 31اگست تک فارم جمع کئے جائیں گے اور تنظیم سازی کا یہ عمل25ستمبر تک مکمل

کر لیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ ن لاہور کے صدر پرویز ملک نے لاہور نصیرآباد مسلم لیگ(ن)کے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اعلان کے مطابق سیف الملوک کھوکھر، غزالی سلیم بٹ، کرنل رمبشر جاوید، مہر اشتیاق سینئر نائب صدر،ملک وحید کو پارٹی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری اور سید توصیف شاہ کو قائمقام جنرل سیکرٹری بنادیاگیاہے۔ پرویزملک نے مزید کہا پارٹی بورڈ عہدے کیلئے اہل لوگوں کے انٹرویو کئے جائیں گے۔جس کارکن کو ٹکٹ دیدیاجائے گا تو وہ جیت جائیگا۔ڈویژنل اور ضلعی سطح پر پارٹی کی سیٹوں کو مکمل کیاگیاہے۔ دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی بذریعہ نمائندہ احتساب عدالت پیشی کے کیس کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے جس میں کہاگیاہے کہ ضمانت میں توسیع نہ ہونے کی صورت میں نواز شریف کو عدالت میں پیش ہونا پڑے گا،درخواست گزار کے وکیل درخواست قابل سماعت ہونے پر عدالت کو مطمئن نہ کر سکے۔ پیر کو چیف جسٹس اطہرمن اللہ اور جسٹس عامر فاروق نے تین صفحات پرمشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا۔ تحریری حکم نامے میں کہاگیاکہ درخواست گزار کے وکیل درخواست قابل سماعت ہونے پر عدالت کو مطمئن نہ کر سکے۔تحریری حکم نامہ کے مطابق وکیل درخواست گزار کی استدعا پر انہیں وقت دے رہے ہیں، آئندہ سماعت پر عدالت کو مطمئن کریں، پنجاب حکومت کی فراہم کردہ میڈیکل رپورٹ کے پیش نظر نواز شریف کو مخصوص وقت کیلئے ضمانت دی تھی۔حکم نامہ کے مطابق پنجاب حکومت نواز شریف کی صحت کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ضمانت میں توسیع کرنے کا اختیار رکھتی تھی، حکم نامہ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے میاں نواز شریف کا نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ سے نہیں نکالا۔تحریری حکم نامہ کے مطابق بتایا گیا کہ نواز شریف کا نام وفاقی کابینہ کے فیصلے پر ای سی ایل سے نکالا گیا، وفاقی حکومت اور نیب میں سے کسی ایک نے بھی نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے بارے میں عدالت کو آگاہ نہیں کیا، حکومت پنجاب نے اگر نواز شریف کی ضمانت میں توسیع نہیں کی تو انہیں اس عدالت کے سامنے سرینڈر کرنا پڑیگا۔