تاریخ کی بڑی بریکنگ نیوز: ایک ساتھ 11 استعفے ۔۔۔۔ 2 وزرا اور 9 اراکین اسمبلی نے حکومتی نا اہلی قبول کرتے ہوئے استعفے دے دیے

بیروت(ویب ڈیسک) بیروت دھماکوں میں حکومتی نااہلی پر اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہونے والے وزراء کی تعداد 2 ہوگئی، عوام کے پُرتشدد احتجاج کے بعد لبنان پارلیمنٹ کے 9 ارکان بھی مستعفی ہوگئے ہیں۔لبنان کی وزیر اطلاعات کے بعد وزیر ماحولیات نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دےد یا ہے

جس کے بعد لبنان پارلیمنٹ کے 9 ارکان بھی مستعفیٰ ہوگئے۔بیروت کے گورنر کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں میں سے کئی لاشوں کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی ہے،جس میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے ۔بیروت میں مقیم کئی غیر ملکی ملازمین اور ٹرک ڈرائیور ابھی بھی لاپتہ ہیں، ایران نے بیان دیا ہے کہ بیروت دھماکے پر سیاست کرنے سے گریز کرنا چاہیےاور امریکا کو لبنان پر عائد پابندیاں ختم کردینی چاہئیں۔ دوسری جانب لبنان کے دارالحکومت بیروت میں تباہ کن دھماکے کے پانچ دن بعد عالمی رہنماؤں نے اتوار کے روز بیروت دھماکے کے متاثرین کی امداد جمع کرنے کے لیے بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔یہ ورچوئل کانفرنس، فرانس اور اقوام متحدہ کے زیر اہتمام لبنان کے مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بجے شروع ہو گی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اس کانفرنس میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔واضح رہے کہ منگل کو بیروت کی بندرگاہ پر امونیم نائٹریٹ کے ایک ذخیرے میں آتشزدگی کے بعد بڑا دھماکہ ہوا تھا جس میں کم از کم 158 افراد ہلاک، تقریباً پانچ ہزار زخمی اور تین لاکھ افراد بے گھر ہو گئے تھے۔حکام کے مطابق اس دھماکے کے نتیجے میں 15 ارب ڈالر (11.5 بلین ڈالر) تک کا نقصان ہوا تھا۔گذشتہ روز بیروت میں سینکڑوں مشتعل مظاہرین ملک میں ہونے والے بڑے دھماکے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے وزارت خارجہ کی عمارت میں داخل ہو گئے تھےاور متعدد مظاہرین نے عمارت میں توڑ پھوڑ بھی کی۔سنیچر کو ہزاروں لبنانی شہریوں نے منگل کو ہونے والے دھماکے

کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے سیاسی رہنماؤں کی ناکامی پر غم و غصے کا اظہار کیا۔مظاہرین حکومت کی جانب سے شہر کی تباہی کا سبب بننے والے امونیم نائٹریٹ کو مناسب طریقہ سے محفوظ کرنے اور تلف کرنے پر ناکامی کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔کچھ مظاہرین نے ملک کے سیاسی رہنماؤں کے بارے میں اپنے خیالات اور جذبات کا اظہار کرتے شہید سکوائر پر فرضی پھانسی کے پھندے بھی بنائے۔اس مارچ کا مقصد ملک کے سیاسی رہنماؤں کے خلاف غصے کے اظہار کے ساتھ ساتھ دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کو یاد کرنا بھی ہے۔منگل کے روز بندرگاہ پر ہونے والے دھماکے نے شہر کے متعدد حصوں کو تباہ کر دیا تھا۔ متعدد لوگوں کے خیال میں لبنان کے بدعنوان اور نہ اہل سیاست دانوں پر عوام پہلے سے ناراض ہیں۔ یہ دھماکہ بندرگاہ پر ایک گودام میں موجود امونیم نائٹریٹ کے ایک بہت بڑے ذخیرے کی وجہ سے ہوا تھا جو ایک جہاز سے پکڑا گیا تھا اور اس ذخیرے کو کبھی وہاں سے ہٹایا نہیں گیا۔لبنان کی حکومت نے اس ضمن میں قصور واروں کو سزا دینے کا وعدہ کیا ہے۔ لیکن لبنان میں عوام میں بڑے پیمانے پرعدم اعتماد پایا جاتا ہے جہاں معاشی بحران اور کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے بعد گذشتہ اکتوبر میں بھی حکومت مخالف احتجاجی تحریک شروع ہوئی تھی۔دھماکے سے ہونے والی تباہی کا جائزہ لینے کے لیے جب دو وزرا موقع پر پہنچے تو لوگوں نے انھیں وہاں سے بھگا دیا۔ اس دھماکے میں تقریباً چھ ہزارافراد زخمی ہوئے ہیں اور تازہ اعدادو شمار کے مطابق 30 تیس ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔مظاہروں میں شامل 28 سالہ انسانی حقوق کے کارکن فارس حلابی نے خبر رساں ادارے ای ایف پی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ’تین روز تک ملبہ ہٹانے اور اپنے زخموں پر مرہم لگانے کے بعد اب ہمارا غصہ پھٹنے کو ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ قصور واروں کو سزا دی جائے۔ ‘