بریکنگ نیوز: غدارِ وطن الطاف حسین نے ’’سندھو دیش‘‘ کے قیام کا اعلان کر دیا

لندن(ویب ڈیسک) غدارِ وطن الطاف حسین نے ’’سندھو دیش‘‘ کے قیام کا اعلان کر دیا ۔ذرائع کے مطابق لندن میں پناہ حاصل کرنے والے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے ایک بارپھرسندھ کو پاکستان سے الگ کرنے کا مطالبہ کردیا ہے ، الطاف حسین نے اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے

جنرل سیکرٹری سے بھی مدد مانگ لی ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق الطاف حسین جو کہ برطانیہ میں پناہ لیئے ہوئے ہیں اور مسلسل شروع دن سے ہی پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں ، تازہ ترین واقعہ میں لندن میں سے ایک ویڈیوپیغام میں الطاف حسین نے سندھ کو پاکستان سے الگ کرنے اورسندھودیش بنانے کا مطالبہ کرکے پاکستان مخالف قوتوں کوحوصلہ دینے کی کوشش بھی کی ہے۔ لندن سے اپنے وڈیوپیغام میں جو کہ گیارہ جون کو دیا گیا اوریہ وڈیوپیغام ایک گھنٹہ 27 منٹ مشتمل ہے ، اس پیغام میں الطاف حسین نے پاک فوج کے خلاف زہراگلنے کی بھرپورکوشش کی ہے، الطاف حسین نے کہا ہے کہ وہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ سندھ کو سندھودیش کی حیثیت سے قائم کرنے میں ہماری مدد کریں۔ یاد رہےکہ اس سے قبل متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین نے ایک تقریر میں انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی سے اپیل کی ہے کہ انھیں اور ان کے ساتھیوں کو سیاسی پناہ دی جائے۔ الطاف حسین کا موقف ہے کہ چونکہ ان کے آباؤ اجداد کا تعلق بھارت سے تھا لہذا انھیں بھارت میں رہائش کی اجازت دی جائے۔ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین ماضی میں متعدد بار انڈیا سے مدد کی اپیلیں کر چکے ہیں۔ گزشتہ ماہ ان کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں وہ انڈیا کا قومی نغمہ ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا‘ گا رہے تھے۔ 2015 میں انھوں نے انڈیا کے ساتھ اقوام متحدہ اور نیٹو سے مدد اور مداخلت کی اپیل کی تھی،

جس پر اس وقت کی حکومت نے شدید رد عمل کا اظہار کیا یاد رہےکہ یہ بھی مصدقہ اطلاعات ہیں کہ الطاف حسین نے ایم کیو ایم لندن سیکرٹریٹ میں باقاعدہ مورتیاں رکھوا لی ہیں اور پوجا کا اہتمام بھی کرلیا ہے بانی متحدہ قومی موومنت (ایم کیوایم) الطاف حسین نے بھارت کی شہرت حاصل کرنے کے لئے اپنے مذہب کے حوالے سے بڑا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس حوالے سے اینکر نادیہ مرزا کا کہنا ہے کہ الطاف حسین نے ایم کی ایم لندن سیکرٹریٹ میں باقاعدہ مورتیاں رکھوا لی ہیں اور پوجا کا اہتمام کر کے بھارت کو اپنے ہندو مذہب اختیار کرنے کا یقین دلایا۔ تفصیلات کے مطابق معروف خاتون اینکر نادیہ مرزا کی جانب سے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشاف کیا گیا ہے۔ نادیہ مرزا نے انکشاف کیا ہے کہ بانی ایم کیو ایم الطاف حسین اپنے ملک سے غداری کرنے اور بھارت کی شہریت و خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ہر حد پار کر گئے ہیں۔ نادیہ مرزا کا کہنا ہے کہ ایک اخبار میں خبر چھپی ہے کہ الطاف حسین نے بھارت کی شہریت حاصل کرنے کیلئے ہندو مذہب اختیار کر لیا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے اخبار کے ایڈیٹر سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس بات کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے مزید تہلکہ خیز تفصیلات بھی بتائی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ الطاف حسین کے برطانیہ میں جیل جانے کے امکانات واضح ہیں۔ اس تمام صورتحال میں الطاف حسین بھارت کی شہریت اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ الطاف حسین اس مقصد کیلئے بھارت کے حکام سے رابطے میں ہیں اور آئے روز پاکستان کے خلاف اور بھارت کے حق میں بیانات دیتے رہتے ہیں۔

تاہم اب جب بھارتی حکام نے انہیں یہ بتایا کہ بھارت میں اب کسی مسلمان کو شہریت نہیں دی جا سکے گی، تو پھر الطاف حسین نے ہندو مذہب اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ انہیں بھارت کی شہرت بھی حاصل ہو جائے۔ بتایا گیا ہے کہ الطاف حسین نے ایم کیو ایم لندن سیکرٹریٹ میں باقاعدہ مورتیاں رکھوا کر پوجا پاٹ بھی کروائی ہے اور باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ہندو مذہب اختیار کر لیا۔ الطاف حسین کی طرف سے ایک مرتبہ پھر سے ریاست پاکستان اور اداروں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کی گئی ہے۔ بانی ایم کیو ایم الطاف حسین نے ایک مرتبہ پھر پاکستان دشمنی میں ہر حد پار کرتے ہوئے پاکستان اورپاکستانی اداروں کے خلاف شدید ہرزہ سرائی کرتے ہوئے پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کی اور عوام کو بھڑکانے کے ساتھ ساتھ ملک توڑنے کی دھمکی بھی دے ڈالی۔ اس کے ساتھ ساتھ بانی ایم کیو ایم الطاف حسین نے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے بارے میں کہا کہ وہ میرے نقش قدم پر ہیں۔ اس کے علاوہ کہا کہ مریم نواز میری بہن ہیں۔ الطاف حسن 1990ء کے اوائل سے لندن میں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔اس دوران میں انھیں برطانیہ کی شہریت بھی حاصل ہوچکی ہے۔لندن میٹرو پولیٹن پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ ایک شخص کو آج بروز منگل 11 جون کو متعدد تقاریر کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔پاکستان میں متحدہ قومی موومنٹ سے وابستہ اس شخص نے یہ تقریریں کی تھیں۔‘‘

لیکن لندن پولیس نے اپنے بیان میں الطاف حسین کا نام نہیں لیا ہے۔ اس نے مزید کہا ہے کہ ’’ یہ شخص 60 کے پیٹے میں ہے۔اس کو لندن کے شمال مغربی علاقے میں واقع ایک پتے سے گرفتار کیا گیا ہے ۔اس پر سنگین جرائم کے ایکٹ مجریہ 2007ء کی دفعہ 44 کے منافی اور جان بوجھ کر جرائم کی حوصلہ افزائی یا ان کی معاونت کے شُبے میں گرفتار کیا گیا ہے۔‘‘ بیان کے مطابق ’’اس شخص کو پیس ایکٹ ( پولیس اور کریمنل شہادت ایکٹ 1984) کے تحت پکڑا گیا ہے۔ اس کو جنوبی لندن میں واقع ایک پولیس تھانے میں منتقل کیا گیا ہے جہاں وہ اس وقت پولیس کے زیرحراست ہے‘‘۔پولیس نے مزید کہا ہے کہ افسر اس شخص کے خلاف قابلِ اعتراض تقاریر کی تحقیقات کے دوران میں پاکستانی حکام سے بھی رابطے میں رہے ہیں۔لندن میٹرو پولیٹن پولیس کے حکام نے الطاف حسین کی 2016ء کی ایک تقریر کی تحقیقات کے سلسلے میں اس سال اپریل میں اسلام آباد کا بھی دورہ کیا تھا اور بعض عینی شاہدین کے انٹرویو کیے تھے۔ الطاف حسین کے خلاف 22 اگست 2016ءکو ریاست مخالف تقریر کی بنیاد پر پاکستان کے مختلف شہروں میں غداری کے مقدمات درج کرائے گئے تھے ۔ ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت میں ایک ہی جیسے تین مقدمات زیر سماعت ہیں۔اس عدالت نے حکومت کو ایم کیو ایم کے بانی کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی ہدایت کی تھی۔ پاکستان کی وزارت داخلہ نے ان کے خلاف ریڈ وارنٹ بین الاقوامی فوجداری پولیس تنظیم (انٹرپول) کو بھیجا تھا ۔

ایم کیو ایم کے بانی قائد پاکستان کو دہشت گردی ،لوگوں کو تشدد پر اکسانے اور سنگین غداری سمیت مختلف جرائم میں مطلوب ہیں۔ مذکورہ تند وتیز اشتعال انگیز تقریر کے بعد کراچی ،کوئٹہ اور گلگت ،بلتستان کے علاقوں میں الطاف حسین کے خلاف متعدد ابتدائی اطلاعی رپورٹس ( ایف آئی آرز) کا اندراج کیا گیا تھا اور انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں ان کی بنیاد پر مقدمات زیر سماعت ہیں۔یہ عدالتیں پہلے ہی الطاف حسین کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر چکی ہیں۔ یادرہے کہ الطاف حسین 1992ء سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔ وہ تب کراچی میں لسانی بنیاد پر خونریزی کے خاتمے کے لیے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت میں فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد بھاگ کر لندن چلے گئے تھے اور انھوں نے 2002ء میں برطانوی شہریت حاصل کر لی تھی۔ان کے خلاف لندن میں ایم کیو ایم کے بانی رکن ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کرانے کے الزام میں بھی تحقیقات کی جاتی رہی ہیں اور ان کے منی لانڈرنگ کے الزام میں بھی تحقیقات کی گئی تھیں ۔ مگر برطانیہ کی تفتیشی ایجنسی اسکاٹ لینڈ یارڈ نے 13 اکتوبر 2016ء کو الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ کے کیس کی تحقیقات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔لندن میٹرو پولیٹن پولیس نے ایم کیو ایم کے سینیر لیڈر محمد انور اور ایک کاروباری شخص سرفراز مرچنٹ کے خلاف بھی کئی ماہ کی تفتیش کے بعد منی لانڈرنگ کے کیس ختم کردیے تھے اور اس کا جواز یہ پیش کیا تھا کہ ان کے خلاف منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کے ثبوت نہیں ملے تھے۔

لندن میٹرو پولیٹن پولیس نے الطاف حسین کے خلاف جولائی 2013ء میں منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا اور انھیں پولیس نے اس مقدمے میں 3 جون 2014ء کو پہلی مرتبہ گرفتار کیا تھا لیکن انھیں خرابیِ صحت کی بنا پر ولنگٹن اسپتال منتقل کردیا گیا تھا اور پھر تھانے میں نو گھنٹے تک پوچھ تاچھ کے بعد انھیں ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔اس کے بعد پانچ مرتبہ ان کی ضمانت میں توسیع کی گئی تھی۔ یاد رہے کہ برطانوی پولیس نے 2012ء اور 2013ء میں لندن کے علاقے ایجویئر روڈ پر واقع ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تھا اور وہاں سے پانچ لاکھ سے زیادہ پاؤنڈز کی نقد رقم اور بعض حساس دستاویزات برآمد کی تھیں۔سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے بہ قول ان میں جدید اسلحے کی خریداری سے متعلق بھی دستاویزات شامل تھیں۔ یاد رہے کہ چند دن قبل اسلام آبادکی انسدادِ دہشتگردی عدالت نے ایم کیوایم کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار 3مجرموں معظم علی ،سیدمحسن علی اورخالدشمیم کو عمر قید کی سزااورمقتول کے ورثا کو 10، 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کاحکم سنا دیا،عدالت نے بانی متحدہ الطاف حسین شریک ملزمان افتخارحسین،محمد انور اور کاشف کامران کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ۔ دوران سماعت گرفتارتینوں ملزمان نے وڈیو لنک کے ذریعے اڈیالہ جیل سے مقدمے کا فیصلہ سنا،عدالت نے تینوں گرفتارمجرموں کو قتل کی سازش،معاونت اور سہولت کاری کیس پرعمرقید کی سزا سنائی ،جج شاہ رخ ارجمندنے 21مئی کامحفوظ فیصلہ سناتے ہوئے قراردیاکہ مجرموں کیخلاف استغاثہ اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے ،39 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ میں عدالت کاکہناتھاکہ ثابت ہوا کہ عمران فاروق کو قتل کرنے کا حکم الطاف حسین نے دیا،

ایم کیو ایم لندن کے دو سینئر رہنمائوں نے یہ حکم پاکستان پہنچایا،ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو سے معظم علی نے عمران فاروق کے قتل کیلئے محسن علی اور کاشف کامران کا چنائو کیا،محسن اور کاشف کو برطانیہ لے جا کر قتل میں بھرپور مدد کی گئی۔ عمران فاروق کو قتل کرنے کا مقصد تھا کہ کوئی الطاف حسین کیخلاف بات نہیں کر سکتا،عمران فاروق کو قتل کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانابھی تھا،عمران فاروق قتل کیس دہشتگردی کے مقدمے کی تعریف پر پورا اترتا ہے اورملزمان سزائے موت کے حقدارہیں لیکن برطانیہ سے شواہد ملنے کی وجہ سے سزائے موت نہیں دی جارہی،پاکستانی حکومت کی جانب سے برطانیہ کو دوران ٹرائل جرم ثابت ہونے کے باوجود ملزمان کو سزائے موت نہ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی جس کے بعد کیس میں پیش رفت ہوئی اوربرطانیہ نے باہمی قانونی معاونت کے تحت شواہد فراہم کیے ۔ ملزمان کی ٹریول ہسٹری، موبائل فون ڈیٹا، فنگر پرنٹس رپورٹ،مقتول کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کو بطور شواہد ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا،یادرہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 ستمبر 2010 کو برطانیہ میں قتل کر دیا گیا تھا جس کے بعد ایف آئی اے نے 5دسمبر 2015 کو پاکستان میں اس قتل کا مقدمہ درج کیا جس میں تین ملزمان خالد شمیم، محسن علی اورمعظم علی کو گرفتار کیا گیا جن پرقتل سمیت قتل کی سازش تیار کرنے ، قتل میں معاونت اورسہولت کاری کے الزامات عائد کیے گئے ۔