چین تو کچھ بھی نہیں۔۔!! پاکستان میں کورنا وائرس تیز رفتاری سے پھیلنے لگا، پاکستان آئے چینی ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی، وفاق اور صوبائی حکومتوں کو خبردار کر دیا

کراچی (نیوز ڈیسک) چین کے شہر وہان سے شروع ہونے والے کورونا وائرس نے اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے جس کے بعد ہر گزرتے کے د ن کے ساتھ اس کی تباہی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ کورونا وائرس نے پاکستان میں بھی اپنے قدم جما لئے ہیں

جس کے بعد اب تک ا س سے متاثرہ افراد کی تعداد 4300 سے زیادہ ہو گئی ہے جبکہ اس سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 63 ہو گئی ہے۔اسی دوران کراچی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چینی ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہائی رسک پاپولیشن میں کورونا وائرس کے پھیلنے کی شرح کافی تشویشناک ہے، حکومت پاکستان اور صوبائی حکومتوں کو مشورہ دیا ہے کہ کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کو بڑھایا جائے اور جو لوگ اس وائرس سے متاثر ہوں انہیں ان کے گھروں، آئسولیشن سینٹرز اور اسپتالوں میں آئسولییٹ کردیا جائے، پاکستان میں میں ماسک پہننے کی شرح بھی انتہائی کم ہے، کورونا وائرس سے بچاؤ میں ہاتھ دھونے اور سینیٹائزرز کے استعمال کے ساتھ ساتھ ماسک پہننے کا کردار انتہائی اہم ہے۔چینی ماہرین صحت کے وفد کی قیادت سنکیانگ صوبے کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر ما منگھوئی کر رہے ہیں اور یہ وفد اس وقت پاکستان کے دورے پر ہے اور وفاقی حکومت سمیت پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں کو کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اپنی سفارشات پیش کر رہا ہے۔اس دورے کا مقصد پاکستان میں کورونا وائرس کو کنٹرول کرنا ہے، حکومت پاکستان کی جانب سے اس وفد کو اس لئے بلایا گیا تھا تا کہ یہاں کے ڈاکٹروں کو ٹریننگ دی جا سکے۔ چینی ڈاکٹروں کے وفد کی پاکستانی ڈاکٹروں اور حکام سے ملاقاتیں جاری ہیں۔ اسی دوران چینی ماہرین نے آگاہ کر دیا ہے کہ پاکستان میں حالات تشویشناک ہو سکتے ہیں کیونکہ یہاں وائرس چین سے زیادہ تیز رفتاری سے پھیل رہا ہے۔