ملکی معیشت کے لیے خطرناک خبر۔۔!! روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں ایک ساتھ کئی سو روپے کا اضافہ، وزیر خزانہ نے ہتھیار ڈال دیئے

انڈونیشیا( نیوز ڈیسک)کورونا وائرس کی وجہ سے ملکی معیشت خطرے میں پڑ سکتی ہے ، انڈونیشیا کے وزیر خارجہ نے ملک میں ڈالر کی قیمت 20 ہزار روپے تک بڑھنے کے خدشے کا اظہار کر دیا ۔انڈونیشیا کی وزیر خزانہ سری مولیانی نے خبردار کیا ہے کہ اگر کورونا وائرس پر جلد قابو

نہ پایا جا سکا اور یہ بحران طویل عرصے تک برقرار رہا تو روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 17 ہزار 5 سو روپے یا اس سے بھی زیادہ سستا ہو ہو سکتا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کا 17 ہزار 500 یا 20 ہزار کی حد کو چھونا ریکارڈ کمی ہو گی۔سری مولیانی نے کہا کہ حکومت کورونا کی وبا سے متاثرہ معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اگر یہ مسئلہ مزید طوالت کا باعث بنا تو بدترین حالات میں انڈونیشیا کی معاشی ترقی کی شرح نمو 0.4 فیصد رہے گی۔انہوں نے کہا کہ کچھ بہتر صورتحال میں معاشی ترقی کی شرح 2.3 فیصد تک رہے گی جو کہ گزشتہ 21 سال میں معاشی ترقی کی کم ترین سطح ہو گی۔وزیر خزانہ نے ٹیلیفونک کانفرنس کے ذریعے میڈیا کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ بدترین حالات کے پیش نظر ہم احتیاطی اقدامات کر رہے ہیں۔1998 کے معاشی بحران میں انڈونیشین روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 16 ہزار 450 روپیہ فی ڈالر ہوا تھا۔بلومبرگ کے اعدادوشمار کے مطابق انڈونیشیا کی مقامی کرنسی پہلے ہی ایشیا میں بدترین سطح پر ہے اور اس کی قیمت 16 ہزار 450 روپیہ فی ڈالر چل رہا ہے۔گزشتہ برس سے اب تک انڈونیشین روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 15 فیصد گر چکا ہے۔بینک انڈونیشیا اور مرکزی بینک روپیہ کو مستحکم رکھنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ مرکزی بینک نے حکومت سے 172.5 کھرب کے سرکاری بانڈز خرید لیے ہیں جن میں غیر ملکی سرمایہ کاروں اور سکینڈری مارکیٹ سے 166.2 کھرب روپے بھی شامل ہیں۔