یا اللہ پاکستا ن پر رحم فرما۔۔۔ پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی تعداد کتنی ہوگئی ؟ پاؤں سے زمین نکال دینے والی تفصیلات

لاہور (ویب ڈیسک)پنجاب میں کرونا وائرس کے مزید 45 کیسز سامنے آگئے ہیں جس کے نتیجے میں پنجاب کی مجموعی تعداد بڑھ کر 78 ہوگئی جبکہ پاکستان بھر میں تعداد 378 تک جاپہنچی۔تفصیلات کے مطابق پنجاب 45، بلوچستان 22، سندھ میں پانچ اور خیبر پختونخوا کے مزید 15 شہریوں میں کرونا وائرس کی تصدیق کے بعد ملک بھر

میں کرونا وائرس کے شکار افراد کی تعداد 383 تک جا پہنچی ہے۔وزیر صحت یاسمین راشد پنجاب نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیرہ غازی خان کے قرنطینہ میں رکھے گئے مزید 45 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔بلوچستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ 22 کیس سامنے آنے کے بعد مریضوں کی مجموعی تعداد 45 ہو گئی ہے۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کے مطابق کوئٹہ قرنطینہ میں مقیم 252 افراد کی ٹیسٹ رپورٹس آ گئی ہیں جن میں مزید 22 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کے مطابق چار میں سے 2 افراد حال ہی میں بیرون ممالک سے آئے ہیں۔ تیسرا شخص میں بیرون ملک سے آئے رشتہ دار سے وائرس منتقل ہوا جبکہ تیسرے شخص کی نہ کوئی ٹریول ہسٹری ہے اور نہ ہی وہ بیرون ملک سے آئے کسی شخص سے ملے ہیں۔ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب کے مطابق سندھ میں کرونا وائرس کے مزید 2 مریضوں کی تصدیق ہوگئی ہے۔ دونوں افراد کا تعلق کراچی سے ہے۔ان مریضوں کو وائرس پہلے سے موجود مریضوں سے منتقل ہوا۔اس سے قبل جمعرات کی صبح کراچی سے کرونا وائرس کے 3 مریض سامنے آئے تھے۔محکمہ صحت کے مطابق تینوں مریضوں کی کوئی ٹریول ہسٹری،یعنی انھوں نے بیرون ملک سفر نہیں کیا۔ ان کو وائرس پہلے سے موجود مریضوں سے منتقل ہوا ہے۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سینئر صحافی چوہدری غلام حسین نے مطالبہ کیا ہے کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے ایمرجنسی نافذ کرکے ملک کو فوج کے حوالے کیا جائے۔نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے چوہدری غلام حسین کا کہنا تھا کہ لوگ حفاظتی تدابیر اختیار کریں اور گھروں پر ہیں، ہر بندہ ہی کرونا وائرس سے خوفزدہ ہے لیکن اس کو خود پر سوار کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ایسا نہ کیا جائے کہ 100 روپے کی چیز کو ایک ہزار روپے کا کردیا جائے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایمرجنسی نافذ کرکے ملک کو فوج کے حوالے کردیا جائے تاکہ ہر بندہ ڈسپلن کا مظاہرہ کرسکے۔ چوہدری غلام حسین کا کہنا تھا کہ تفتان میں تو 200 بندے نہیں رہ سکتے، وہاں موجود لوگوں کو ایئر لفٹ کیا جائے اور انہیں وہاں سے دوسری جگہ لے جایا جائے۔