مسجدیں ویران، مساجد میں نمازوں پر پابندی۔۔!! سعودی مؤذن اذان دیتے ہوئے رو پڑا، ویڈیو نے اُمتِ مسلم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا

مکہ مکرمہ(نیوز ڈیسک ) سعودی مملکت میں کورونا وائرس کی روک تھام کی خاطر کئی اہم فیصلے لیے گئے ہیں، جن میں سے ایک فیصلہ مملکت میں موجود تمام مساجد کو نمازیوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ ان مساجد سے صرف اذان دی جا سکتی ہے ، لوگ پنجگانہ نماز اور نمازجمعہ کی ادائیگی کے لیے نہیں آ سکتے۔

انتہائی مجبوری کی وجہ سے لیے گئے اس فیصلے کے باعث سعودی مملکت کے ہر کلمہ گو کی آنکھ اشک بار ہے۔تاہم لوگ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اس فیصلے پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں سعودی عرب کی ایک مسجد کا موذن اذان دیتے وقت زار و قطار رونے لگتا ہے۔اس ویڈیو کو دیکھ کر کئی صارفین آبدیدہ ہو گئے اور کمنٹس کر رہے ہیں کہ مساجد کی ویرانی نے ہر مسلمان کو سوگوار کر دیا ہے۔کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ شاید اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض ہے، اسی لیے اس نے ہم پر اپنے گھر کے دروازے بند کر دیئے ہیں۔ ہمیں اللہ سے توبہ استغفار کر کے اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی سوشل میڈیا پرایک غیر مُلکی کی ایسی تصاویر وائرل ہوئی ہیں جو ریاض کی ایک بند مسجد کے دروازے کے باہر بیٹھ کر دُعا مانگ رہا ہے اور ساتھ میں بلند آواز میں رورہا ہے۔

اس شخص کی رقت آمیز دُعا نے لاکھوں افراد کو غمزدہ کر دیا ہے کیونکہ سعودی مملکت میں کبھی ایسی نوبت نہیں آئی تھی کہ حکام کی جانب سے نہ چاہتے ہوئے بھی انتہائی مجبوری کے عالم میں لوگوں کا مساجد میں داخلہ بند کر دیا جائے۔ یہ غیر مُلکی شخص شلوارقمیص میں ملبوس ہے جس کی وجہ سے بظاہر یہی لگتا ہے کہ اس کا تعلق پاکستان سے ہے۔ تاہم اس بارے میں کوئی تصدیق نہیں ہو سکی۔المرصد اخبار کے مطابق یہ غیر مُلکی مغرب کی اذان کے بعد مسجد کے باہر بیٹھ گیا ہے ۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی یہ تصاویر شیخ حامد الذیر مسجد کے موذن معاذ القحطانی نے ہی اپنے موبائل کیمرے سے کھینچ کر محفوظ کر لیں اور پھر اسے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے شیئر کر دیا۔ موذن معاذ القحطانی نے اپنی پوسٹ کے ساتھ تحریر کیا ہے ”یہ کارکن میری مسجد میں ہونے والی تمام نمازیں باجماعت ادا کرتا رہا ہے۔ہم سب اللہ کے آگے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور اس سے مغفرت کے طلب گار ہیں“ معاذ نے بتایا کہ یہ غیر مُلکی کارکن بند کی گئی مسجد کے دروازے کے باہر بیٹھ کر اس بات پر آنسو بہا رہا تھا کہ وہ مسجد میں نماز ادا کرنے سے محروم ہو گیا ہے۔ کیونکہ قرآن مجید میں حکم دیا گیا ہے کہ مسلمان اپنی نمازیں مساجد میں ادا کیا کریں۔ سعودی حکومت نے پورے ملک کی مساجد میں نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کر دی ہے۔ تاہم اس پابندی کا اطلاق مسجد الحرام اور مسجد نبوی پر نہیں ہو گا۔ اعلان کیا گیا ہے کہ مساجد میں نماز کی ادائیگی پر پابندی کے فیصلے کا اطلاق فوری کر دیا گیا ہے۔اس کے علاوہسعودی عرب میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث عمرہ زائرین پر مکمل پابندی لگائی گئی ہے۔