سرکاری عمارتیں خالی۔۔!! پنجاب کے سرکاری افسران کو دفتر آنے سے روک دیا گیا

لاہور (نیوز ڈیسک ) کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے پنجاب بھر کے سرکاری ملازمین کو دفتر آنے سے روک دیا گیا ، صرف ضروری افراد کو ہی دفتر آنے کی اجازت ہوگی۔ کورونا وائرس پھیلنے کا خطرہ،پنجاب بھر کے سرکاری ملازمین کو رخصت پر بھیجنے کا منصوبہ بنا لیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کے 160کے

قریب ممالک میں پھیلنے کے بعد سے ہی دفاتر میں چھٹیوں کی تجویز زیر غور ہے۔پنجاب حکومت نے صورتحال نارمل جانتے ہوئے چھٹیوں کا فیصلہ نہ کیا گیا تھا ۔ تاہم اب سول سکریٹریٹ نے 70 فیصد ملازمین کو دفاتر میں آنے سے روک دیا ہے۔ سول سیکریٹریٹ میں کورونا وائرس کے خوف کے باعث 30 فیصد ملازمین سے دفتر چلانے کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔ پنجاب بھر کے تمام محکموں کو احکامات سے آگاہ کر دیا گیا ہے ۔سول سیکریٹریٹ نے محکموں کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔ صرف 30 فیصد سٹاف سے کام چلایا جائے گا۔ ملازم کو کھانسی یا زکام ہونے کی صورت میں فوری چھٹی دے دی جاتی ہے۔ سرکاری دفاتر میں عوام کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے۔ اس سےقبل خیبر پختونخواہ میں حاملہ خواتین اور بزرگوں کو چھٹیاں اور نماز جمعہ دو شفٹوں میں پڑھنے کی ہدایت کی گئی تھی ۔ 50 سال سے زیادہ عمر کے افراد اور حاملہ خواتین کو 15 چھٹیاں دی جائیں، اراکین اسمبلی بھی اپنے حلقوں میں لوگوں سے ملاقات کرنے سے گریز کریں ۔خیبرپختونخواہ میں محکمہ ریلیف نے سیکریٹریز کو مراسلہ ارسال کیا تھا جس میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ تمام 50 سال سے زیادہ عمر والے سرکاری ملازمین اور حاملہ خواتین کو چھٹیاں دی جائیں اور ان کو نمازجمعہ دو شفٹوں میں ا دا کرنے کا کہا جائے۔ یہ بات بھی قابل غور رہے کہ حکومت کی جانب سے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کی ہے۔ اور بار بار صابن سے ہاتھ دھونے کی تجویز کی جا رہی ہے۔