’اب گھروں کو جانے دیا جائے‘۔۔قرنطینہ سنٹر میں تفتان سے آئے زائرین مشتعل ہو گئے۔۔ دھرنا دے دیا

کوئٹہ (ویب ڈیسک) میاں غنڈی کےقریب کراچی کوئٹہ نیشنل ہائی وے پر قائم میاں غنڈی قرنطینہ سنٹر میں تفتان سے آئے زائرین مشتعل ہوگئے۔زائرین سینٹر کے دروازے توڑ کر باہر نکل آئے اور مستونگ روڈ پر دھرنا دے دیا۔زائرین کا کہنا ہے کہ ہم قرنطینہ میں 14 دن سے رہے ہیں،

اب گھروں کو جانے دیا جائے۔تاہم انتظامیہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ زائرین کو میڈیکل ٹیسٹ کے بعد جانے کی اجازت نہیں ہے، زائرین سے مذاکرات کرکے انہیں سمجھایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل یہ بھی بتایا گیا تھا کہسہولیات کا فقدان کی وجہ سے لوگ تفتان کے قرنطینہ سے بھاگنے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تفتان کے قرنطینہ سینٹر سے سینکڑوں افراد احتجاج کی آڑ میں فرار ہوگئے ہیں جنکو روکنے کیلئے سیکورٹی فورسز نے تفتان سے کوئٹہ آنے والے روٹ پر چیکنگ مزید سخت کر دی ۔ کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کے خدشات بڑھنے کے بعد انتظامیہ حرکت میں آگئی اور قرنطینہ میں موجود زائرین کی آمدورفت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ تاہم اس سے پہلے ہی درجنوں زائرین تفتان کے قرنطینہ مراکز میں سہولیات کی عدم دستیابی کے خلاف احتجاج کے دوران فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے جنہیں پکڑنے کے لیے نوشکی، مستونگ اور کوئٹہ میں چیک پوسٹیں قائم کردی گئیں۔ تفتان سے بھاگ کر آنے والے دو درجن سے زائد زائرین کو کوئٹہ میں پکڑ کر دوبارہ قرنطینہ مرکز منتقل کردیا گیا۔ پی ڈی ایم اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر فیصل طارق کا کہنا تھا کہ تفتان سے چھپ کرکوئٹہ پہنچنے والے زائرین کو پکڑنے کے لیے کوئٹہ کے قریب لکپاس سمیت مختلف مقامات پر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے چیک پوسٹیں قائم کر رکھی ہیں۔ چیک پوسٹوں پرعام گاڑیوں اور مسافر بسوں کو روک کر انکی چیکنگ کی جارہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ تین روز کے دوران 51 افراد کو کوئٹہ کے علاقے میاں غنڈی کے قریب پی سی ایس آئی آر سینٹر میں قائم قرنطینہ مرکز منتقل کردیا گیا ہے جن میں نصف سے زائد ایران سے آنے والے زائرین ہیں اور باقی وہ افراد ہیں جنہوں نے بس میں ان زائرین کے ہمراہ سفر کیا۔انہوں نے بتایا کہ ہم نے ایک بس کی تمام سواریوں اور عملے کو اتار کر قرنطینہ مرکز منتقل کر دیا ہے۔