زیوارت خریدنے والوں کیلئے بڑی خبر: نئے قانون میں کیا فیصلہ ہوگیا؟ تاجر اور صارفین خریداری سے پہلے ایک بار یہ بات ضرور جان لیں

اسلام آباد(ویب ڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) پاکستان میں انسداد منی لانڈرنگ (اے ایم ایل) اور دہشت گردی کے لیے مالی مدد کی روک تھام (سی ٹی ایف) کے حوالے سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی تجاویز پر عملدرآمد کے لیے آئندہ چند روز میں 3 شعبوں میں قواعد نافذ کرے گا۔

نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ قواعد ریئل اسٹیٹ، جواہرات اور زیورات کے شعبوں کا احاطہ کریں گے تاکہ دہشت گردی کے لیے مالی مدد کو یہاں ٹھکانے کرنے کا امکان کم سے کم کیا جاسکے۔ اس ضمن میں لا ڈویژن اور سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی پی) کے ذریعے وکلا اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کی نگرانی کی جائے گی۔ علاوہ ازیں اس سلسلے میں ایف بی آر کے ترجمان اور پالیسی رکن ڈاکٹر حمید عتیق نے ڈان کو تصدیق کی کہ ’ہم نے قواعد جائزے کے لیے لا ڈویژن بھجوادیے ہیں‘۔ خیال رہے کہ پیرس سے تعلق رکھنے والی ایف اے ٹی ایف نے21 فروری کو اختتام پذیر ہونے والے اپنے پلانری اجلاس میں اے ایم ایل/سی ٹی ایف کے حوالے سے پاکستان سمیت 15 ممالک کی جانب سے کیے گئے اقدامات اور پیشرفت کا جائزہ لیا۔ اس اجلاس میں دنیا بھر سے 206 ممالک کے نمائندے اور حکام شریک ہوئے تھے جس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر ریونیو حماد اظہر نے کی تھی۔ ایف بی آر کے تیار کردہ قواعد کے مطابق زیورات کو دستاویزی شکل دی جائے گی اور منقل کی گئی رقم کا حساب رکھا جائے گا جبکہ قواعد کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد ایک مکمل نظام قائم کیا جائے گا جس کے ذریعے ہی معلومات ایف بی آر کو فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ زیورات کے تاجر بھی مشتبہ ٹرانزیکشن یعنی ایک خاص حد سے زائد زیورات یا قیمتی پھتروں کی خرید یا فروخت کو رپورٹ کرسکیں گے۔

علاوہ ازیں زیورات کے تاجر ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ ایک خاص ریٹرن فارم بھی جمع کروائیں گے جس میں ملک بھر کے 30 ہزار زیورات کے تاجروں کا ڈیٹا ہوگا۔ مجوزہ قواعد کا ہاؤسنگ اتھارٹیز یا سب رجسٹرار آفسز پر بھی اطلاق ہوگا جہاں جائیداد کے تبادلے کی تصدیق کی جاتی ہے تاہم پراپرٹی ایجنسٹس ان قواعد کے دائرہ کار میں نہیں آئیں گے۔ اس کے ساتھ غیر فعال کاروبار اور پیشوں کے حوالے سے ایف اے ٹی ایف کے نئے ریگولیشن پر بھی عملدرآمد کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ ملک میں تصدیق کرنے والے 35 ہزار حکام ہیں جبکہ ان قواعد کا بنیادی مقصد صارفین کو جاننا اور مستعدی سے نگرانی کرنا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق یہ ریگولیشن کئی ممالک میں بہت سے مسائل کا شکار ہیں لیکن پاکستان انہیں نافذ کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس کے ساتھ دہشت گردی کے لیے کیا جانے والا مالی تعاون ریئل اسٹیٹ میں لگانے کے خدشے کے پیش نطر حکومت صوبوں کو ویلوایشن ٹیبل ریٹس پر نظرثانی کرکے اسے مارکیٹ ویلیو سے قریب تر کرنے کےلیے قائل کرنے پر غور کررہی ہے۔ علاوہ ازیں ایف اے ٹی ایف کی جاری کردہ باضابطہ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایکشن پلان کے 27 میں سے 14 نکات پر عملدرآمد کیا ہے جبکہ بقیہ ایکشن پلان میں پیشرفت مختلف مراحل میں ہے۔