مشکلات ختم : پسند کی شادی کرنے والے جوڑوں کیلئے اچھی خبر!! عدالت نے دبنگ حکم دے دیا

لاہور (ویب ڈیسک) بدقسمتی سے پاکستانی سماج میں پسندکی شادی کو اس قدر معیوب سمجھا جاتا ہے کہ ایک دوسرے کی پسند معلوم ہونے پر اچھے بھلے رشتوں سے بھی انکارکردیا جاتا ہے، اسلام میں بھی نکاح کیلئے مرد و عورت دونوں کی رضامندی پہلی اور بنیادی شرط ہے، اگر فریقین رضامند نہ ہوں

تو پورا خاندان بھی راضی ہو تو نکاح کی شرط پوری نہیں ہوتی، حدیث میں بھی ہے کہ عورت کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔ ہمارے ملک میں اگر کو ئی لڑکی اور لڑکا پسند کی شادی کرلیں تو اُس کے ماں باپ ہی اُس کے جان کے دشمن بن جاتے ہیں اور پھر پسند کی شادی کرنے والا جوڑا تحفظ کیلئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے، آج پسند کی شادی کرنے والی اوکاڑہ کی رہائشی لڑکی نے سیشن عدالت سے تحفظ کی اپیل کی۔ تفصیلات کے مطابق اوکاڑہ کی رہائشی آمنہ بی بی کی پانچ سال قبل سبزہ زار کے رہائشی آصف کے ساتھ منگنی ہوئی، آمنہ کے والدین پانچ سال بعد منگنی ختم کرکے اس کی شادی کسی ادھیڑعمر شخص سے کرنا چاہتے تھے، جس پر آمنہ نے گھر سے بھاگ کر لاہور آصف کے پاس پہنچ گئی، دونوں کو نکاح کے بعد تحفظ کے لیے سیشن عدالت پیش کردیا گیا، آمنہ کا کہنا تھا کہ وہ آصف سے نکاح کر کے خوش ہیں۔ ایڈیشنل سیشن جج شہزادہ مسعود کی عدالت میں آصف اور آمنہ نے درخواست دی کہ انہیں قتل کی دھمکیاں مل رہی ہے، انہیں تحفظ فراہم کیا جائے، آصف کا کہنا ہے کہ اس نے آمنہ کی خاطر اپنا سب کچھ لٹا دیا لیکن اس کےوالدین خوش نہ ہوئے۔ عدالت میں ان کے وکیل شہباز علی بھٹی نے بتایا کہ دونوں کی محبت مثالی ہے، اس لیے لڑکے کے والدین نے نکاح کرایا، سیشن کورٹ میں جوڑے کے نکاح کےبعد باقاعدہ دعا بھی کرائی گئی۔عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد پولیس کو پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔