الیکشن کمیشن کا بڑا کھڑاک۔۔۔بلاول بھٹو کے حوالے سے ایسا قدم اُٹھا لیا کہ پیپلز پارٹی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) الیکشن کمیشن نے گوشواروں میں ابہام پر چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹوز رداری کوطلب کرلیا ہے ، انھیں 14جنوری کو وکیل کے ذریعے یا ذاتی حیثیت میں الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے ۔نجی نیوز چینل کے مطابق الیکشن کمیشن نے چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹوزرداری

کونوٹس جاری کرکے 14جنوری کوطلب کرلیا ہے ، بلاول بھٹوزرداری کونوٹس جمع کروائے گئے گوشواروں میں تضاد پر جاری کیا گیا ہے ۔ نوٹس میں ہدایت کی گئی ہے کہ بلاول بھٹو زرداری ذاتی حیثیت یا وکیل کے ذریعے 14جنوری کو الیکشن کمیشن میں پیش ہوں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹوزرداری کومتعدد بار گوشواروں میں تضاد دور کرنے کا موقع فراہم کیا گیا ہے جبکہ بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار پر بھی اعتراض اٹھایاگیا تھا۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نیب قوانین آرڈیننسز کے معاملے پر اہم پیشرفت ہوئی ہے اور حکومت اپوزیشن کے مطالبے پر نیب سے متعلق پہلا ترمیمی آرڈیننس واپس لینے پر تیار ہو گئی ہے۔نجی ٹی وی جیونیوز نے ذرائع کے حوالے سے کہاہے کہ پہلے آرڈیننس میں 5 کروڑ سے زائد کرپشن کے ملزمان کے لیے جیل میں بی کے بجائے سی کلاس کر دی گئی تھی جب کہ دوسرے ترمیمی آرڈیننس میں تاجروں اور سرکاری افسران کو چھوٹ دی گئی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے حکومت نیب کے دوسرے ترمیمی آرڈیننس میں اپوزیشن کی تجاویز کو بھی شامل کرنے پر رضامند ہو گئی ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ قومی اسمبلی میں پاس کردہ 9 آرڈیننسز پر حکومت اور اپوزیشن کا ڈیڈلاک برقرار ہے۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن کا 9 آرڈیننسز کو قومی اسمبلی میں قانون سازی کے ذریعے واپس لینے پر اصرار ہے جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ 9 آرڈیننسز کو صدر مملکت سے سمری کی منظوری کے ذریعے واپس لے لیتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی اراکین کی رائے ہے کہ اگر قانون سازی کے ذریعے آرڈیننسز واپس لئے گئے تو نیا پنڈورا باکس کھل جائے گا۔