’’اتنا ڈر۔۔۔ ؟‘‘پی ٹی آئی حکومت کی اہم خاتون وزیر، ٹک ٹاک حریم شاہ سے اتنی خوفزدہ کیوں ہے ؟ تہلکہ خیز تفصیلات منظر عام پر

لاہور (ویب ڈیسک )وفاقی وزیر مملکت برائے ماحولیات زرتاج گل نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کو بلاک کردیا جس پر حریم شاہ کا رد عمل بھی سامنے آگیا ۔تفصیل کے مطابق حریم شاہ نے ٹوئٹر پر ایک سکرین شارٹ شیئر کیا جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زرتاج گل

وفاقی وزیر مملکت برائے ماحولیات زرتاج گل نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کو بلاک کردیا جس پر حریم شاہ کا رد عمل بھی سامنے آگیا ۔

Gepostet von ‎مدنظر Mad-e-Nazar‎ am Montag, 6. Januar 2020

نے حریم شاہ کو بلاک کردیا ہے ۔اس کے ساتھ حریم شاہ نے پیغام دیا کہ میں نے ان کا فالو نہیں کیا ،نہ کبھی ان سے متعلق ٹوئٹ کیا او ر نہ ہی انہیں ٹیگ کیا ،اتنا ڈر ؟واضح رہے کہ دو دن قبل نجی نیوز چینل پر مبشر لقمان کے پروگرام میں صحافی ثاقب کھرل نے الزام عائد کیا تھا کہ ایک خاتون وفاقی وزیر کی ویڈیوز بھی حریم شاہ کے پاس ہیں ۔آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں زرتاج گل نے کہا کہ میری بہن نے آسٹریلیا سے فون کر کے مجھ سے پوچھا کہ کونسی ویڈیوز کی بات ہو رہی ہے ،میری چار سال کی بیٹی ہے ۔زرتاج گل نے کہا کہ اب یا تو ویڈیوز سامنے لائی جائیں یا پھر ایف آئی اے انہیں پکڑے ،تمام بیٹیاں برابر ہوتی ہیں ،جب کسی کے پاس ثبوت نہیں ہوتا تو پھر ایسی بات کیوں کرتے ہیں ۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیراعظم کے ترجمان ندیم افضل چن نے کہاہے کہ ن لیگ نظریاتی نہیں ہوئی، کوئی خوش فہمی میں نہ رہے یہ نظریاتی پارٹی ہے ہی نہیں ہے ، تمام سیاسی پارٹیاں آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت پر متفق ہیں۔سما ءنیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ندیم افضل چن نے کہا کہ جب پہلے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ہوتی رہی ہے تو اس وقت بھی عدالت موجودتھی لیکن اب جب تحریک انصاف نے توسیع دی تو کورٹ نے کہا کہ اس پر قانون بنائیں جس پر تمام سیاسی پارٹیاں آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت پر متفق ہیں۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ نظریاتی نہیں ہوئی، کوئی خوش فہمی میں نہ رہے یہ نظریاتی پارٹی ہے ہی نہیں ہے ۔ندیم افضل چن کا کہناتھا کہ بل پاس کے ہونے کے بعد کوئی اتار چڑھاﺅ ہوتا ہے تو یہ کوئی بات نہیں ہے ، یہ ہوتا رہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بعد بھی آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کااختیار وزیراعظم کے پاس ہی رہے گا جس کوچاہے توسیع دے اور جس کو چاہے نہ دے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک بات بڑی واضح ہے کہ پاکستان ماضی کی طرح استعمال نہیں ہوگا اور خطے میں خودمختار اورغیر جانبدار رہنا پڑےگا ۔اس وقت جو صورتحال ہے ساری سیاسی تنظیموں کو آن بورڈ لیناچاہئے ، اب دیکھنایہ ہے کہ ہمارے مفاد میں کیا ہے اور عالم اسلام کے مفاد میں کیاہے اور بطورپاکستانی ہمارے مفاد میں کیاہے ؟