معذرت کے ساتھ میں یہ کام نہیں کر سکتا۔۔۔ استعفیٰ لکھ کرحکومت کے سامنے رکھ دیا گیا،ہلچل مچ گئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک)آصف زرداری کےخلاف جعلی بینک اکاونٹس ریفرنسز میں نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹرسید مدثر نقوی مستعفی ہوگئے۔ مدثر نقوی کے استعفی کے متن کے مطابق انہوں نے اپنے استعفے میں لکھا ہے کہ وہ ذاتی وجوہات کی بنا پرنیب کے ساتھ کام جاری نہیں رکھ سکتے۔ مدثر نقوی جعلی اکاونٹس کے لئے بنائی گئی 6رکنی خصوصی

پراسیکیوشن ٹیم کے رکن تھے۔ مدثرنقوی میگا منی لانڈرنگ،پارک لین اور دیگر کیسز میں بھی نیب پراسیکیوٹرکے فرائض انجام دے رہے تھے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا نے کہا ہے کہ ہم فائدہ نہیں مانگ رہے بلکہ انصاف مانگ رہے ہیں، بلاول بھٹو زرداری نے ایم کیوایم کے کہنے پر ان کوآفر کی تھی ۔دنیا نیوز کے پروگرام ”آن دا فرنٹ“میں گفتگو کرتے ہوئے شہلا رضا نے کہا کہ حکومت کا کام اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کر کچھ معاملا ت پر ڈسکس کرنا ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ چور وزیراعظم اپنے عوام پر ٹیکس کابوجھ لادتاہے ، بجلی اورگیس کی قیمتیں بڑھاتاہے، اگر حکومت اچھی پالیسیاں لاتی تو پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے لوگ ان کوسراہتے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بتایا گیاہے کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کا سارا اثر مڈل کلاس اورلوئر مڈل کلاس پر پڑا ہے بلکہ یہ کہا گیاہے کہ مڈل کلاس ختم ہوگئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام سے غربت بہت دیر سے ختم ہوگی لیکن اس کی بجائے حکومت اگر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو مستحکم کرتی اور ن لیگ کے راستے پر نہ جاتی تو اس کے اچھے نتائج ملتے ۔شہلا رضا کاکہناتھا کہ میں لنگر خانے کامذاق اس لئے اڑا رہی ہوں کہ عمران خان کہہ رہے تھے کہ ہم خوددارقوم بنیں گے ، عمران خان جوایک کروڑ نوکریاں دے رہے تھے اور اب کہہ رہے ہیں کہ لنگر خانے میں جائیں ، عمران خان

توقوم کی شہ رگ پر پاﺅں رکھ کر کھڑے ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تحریک انصاف کی حکومت بنی تو اپوزیشن کی جانب سے تعاون کرنے کی بات کو کہا گیا کہ یہ این آر او مانگ رہے ہیں، ہم فائدہ نہیں مانگ رہے بلکہ انصاف مانگ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ایم کیوایم کی کہنے پر ان کوآفر کی تھی ۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پاکستان آرمی میں سب سے اونچی سطح پر بڑی تبدیلی متوقع، ذرائع کا کہنا ہے کہ آرمی ایکٹ میں 3 قوانین میں ترمیم کی جائیگی جس میں سربراہ جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا معاملہ بھی شامل ہے، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی تینوں مسلح افواج کے سربراہ میں سے ہو گا۔ یاد رہے کہ سربراہ جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی پاکستان آرمی میں ایک بڑا عہدہ ہوتا ہے جس کا رینک آرمی چیف کے برابر یعنی جنرل کا ہوتا ہے۔اس عہدے کا سربراہ تینوں مسلح افواج کے ساتھ رابطے کا کام کرتا ہے، معلومات کا تبادلہ خیال کرتا ہے اور نئے احکامات بھی جاری کرتا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج میں یہ عہدہ صرف پاکستان آرمی کے پاس ہوتا تھا اور آرمی سے ہی سربراہ جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا تعین کیا جاتا تھا۔اس وقت پاکستان میں چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا ہیں جو کہ 27 نومبر 2019 میں سربراہ مقرر ہوئے تھے۔اب یہ خبر آئی ہے کہ چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی تینوں مسلح افواج کے سربراہان میں سے منتخب کیا جائیگا، اسکا فیصلہ پارلیمنٹ میں کیا جائیگا۔