وزیراعظم عمران خان کی ملائیشیا کے دورے سے معذرت ۔۔۔؟؟؟ ایسی خبر آگئی کہ کپتان کی کپتانی خطرے میں پڑگئی، پاکستانی حیرت زدہ رہ گئے

کوالالمپور (ویب ڈیسک) کوالالمپور میں6اسلامی ممالک کے سربراہی اجلاس پر سعودیہ نے تحفظات کا اظہار کیا وزارت خارجہ نے دورہ منسوخی کی تصدیق یا تردید نہیں کی، جبکہ وزیر اعظم عمران خان دو روزہ دورے پر سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے۔ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے دوران ملائشیا میں

ہونیوالے چھ اسلامی ممالک کے سربراہی اجلاس پر سعودی عرب کی قیادت نے تحفظات کا اظہار کیا جس کے بعد وزیراعظم عمران خان کا بھی دورہ کوالالمپور منسوخ ہونے کا امکان ہے ، وزیر اعظم کی جگہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی دورہ کر سکتے ہیں ۔ وزارت خارجہ نے تاحال وزیراعظم کے دورہ ملائشیا کی منسوخی کی تصدیق یا تردید نہیں کی ۔ ملائشین ہائی کمشنر اکرام بن محمد ابراہیم نے وزیراعظم عمران خان کے دورے کی پھر تصدیق کی ہے ۔ ہائی کمشنر کے مطا بق عمران خان 19 سے 21 دسمبر تک کوالالمپور کا دورہ کریں گے ۔ ملائشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد کی قیادت میں 19تا 21 دسمبر تک کوالالمپور میں اسلامی سربراہی کانفرنس ہوگی ‘‘قومی سلامتی کے حصول میں ترقی کے کردار’’ کے مرکزی موضوع پر کانفرنس میں میزبان ملک کے علاوہ انڈونیشیا ، پاکستان ، قطر اور ترکی کے نمائندے بھی شریک ہوں گے ۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان ، قطری امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی ، انڈونیشیا کے صدر جوکو وڈوڈو اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے ہمراہ 52 ممالک کے 450 کے لگ بھگ رہنما ، سکالرز ، علما اور مفکرین کی شرکت کا امکان ہے ۔ دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان آج 17 دسمبر سے شروع ہونے والے پہلے عالمی مہاجرین فورم کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کے لئے جنیوا سوئٹز رلینڈ پہنچ گئے ۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جنیوا پہنچنے پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے ، سوئس حکومت کے نمائندوں اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔ سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کے سفیر احمد نسیم وڑائچ ، ڈبلیو ٹی او جنیوا میں مستقل مشن برائے پاکستان کے مستقل نمائندے ڈاکٹر محمد مجتبیٰ پراچہ بھی موجود تھے ۔ وزیراعظم کے ہمراہ آنے والوں میں معاون خصوصی ذوالفقار بخاری اور سیکرٹری خارجہ سہیل محمود شامل ہیں ۔ وزیراعظم 40 سال تک افغان مہاجرین کی میزبانی، مہمان نوازی کا ذکر کریں گے ۔ وزیراعظم جنیوا میں قیام کے دوران عالمی رہنماؤں، اقوام متحدہ حکام سے ملاقاتیں بھی کریں گے اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ظہرانے میں بھی شرکت کریں گے ۔