گرفتار وکیلوں کی رہائی کیلئے وکلاء آج کیا کرنے والے ہیں ؟ تازہ ترین خبر

لاہور (ویب ڈیسک) پنجاب بار کونسل کے فیصلہ کی روشنی میں صوبہ بھر کے وکلأ گرفتار وکلأ کی رہائی کے لیے آج سے غیر معینہ مدت تک ہڑتال کریں گے اور کسی باوردی پولیس افسر یا اہلکار کو احاطہ عدالت میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔
پنجاب بار کونسل نے ہفتہ

کے روز اپنے اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ جب تک دل کے ہسپتال پر حملہ کے الزام میں گرفتار وکلأ کو رہا نہیں کیا جاتا، تب تک وکلأ صوبہ بھر کی عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے۔ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور پر سیکڑوں وکلاء نے دھاوا بولا اور ہر طرف تباہی مچادی، اسپتال کے ایمرجنسی، آئی سی یو اور دیگر وارڈز میں توڑ پھوڑ کی، ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو تشدد کا نشانہ بنایا اور مریضوں سے علاج کی سہولت چھین لی۔ ڈاکٹر حسیب نے دعویٰ کیا ہے کہ علاج کی سہولت نہ ملنے سے 12 مریض جاں بحق ہوگئے جبکہ وکلاء کے تشدد سے 25 سے زائد ڈاکٹرز شدید زخمی بھی ہوئے۔ پنجاب بار کونسل نے پورا دن مسلسل براہ راست نشر کئے جانیوالے پی آئی سی کے مناظر کو جھٹلاتے ہوئے تمام ملبہ ڈاکٹرز پر ڈال دیا، ایک بیان میں پی بی سی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کا وکلاء پر تشدد قابل مذمت ہے۔ پنجاب بار کونسل نے صوبہ بھر میں ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل ميڈيا پر وکلاء کی تضحيک کی گئی، وکلا پُرامن احتجاج کیلئے جمع ہورہے تھے کہ حملہ کردیا گيا۔ بار کونسل کا یہ بھی کہنا ہے کہ لاٹھی چارج اور شیلنگ سے درجنوں وکلاء زخمی ہوئے۔ وکلاء کی جانب سے صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحق چوہان پر بھی حملہ کیا گیا، ان کے بال نوچے گئے، مکے مارے اور دھکے بھی دیئے گئے۔