بریکنگ نیوز:دعا منگی کی بازیابی کے اتنے دن گزرنے کے باوجود نہ طبی معائنہ اور نہ ہی کوئی عدالت میں بیان ریکارڈ۔۔۔پولیس کو کس کا دباؤ ہے ؟تہلکہ خیز تفصیلات نے کیس کو نیا موڑ دے دیا

کراچی(ویب ڈیسک)کراچی کے علاقے ڈیفنس سے طالبہ دعا منگی کے اغوا اور تاوان وصولی کے مقدمے میں پولیس کو سیاسی یا اخلاقی دباؤ کا سامنا ہے، کسی وجہ سے افسران بے بس ہیں یا پولیس کی مجرمانہ نااہلی ہے،بازیابی کو ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود دعا منگی کا ابھی تک قانونی طبی معائنہ کرایا گیا اور نہ

ہی مغویہ کا دفعہ161کے تحت عدالت میں بیان ریکارڈ کرایا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق تفتیشی پولیس کی جانب سے اس حوالے سے کوئی کوشش بھی سامنے نہیں آئی۔بھاری تاوان کی ادائیگی کے بعد رہا کرائی گئی دعا منگی نے پولیس کو بھی فلمی طرز کا ایسا ہی گول مول اور بے ضرر بیان ریکارڈ کرایا جس میں اسے اغوا کرنے والے، ایک ہفتہ تک یرغمال بنا کر رکھنے والے یا تاوان وصول کرنے والے کسی ایک بھی ملزم کی نشاندہی نہیں کی گئی اور نہ ہی اس کے بیان سے کسی گروہ کے بارے میں کوئی اشارہ مل رہا ہے۔ میڈیا پر سامنے آنے والے دعا منگی کے بیان کے مطابق مغویہ نے ان ملزمان کے چہرے دیکھے اور نہ آوازیں سنیں اور حیرت انگیز طور پر ملزمان کی جانب سے اس کے کانوں پر ہیڈ فون لگاکر قید رکھنے کا فلمی سین جیسا حوالہ دیا گیا۔پولیس ذرائع کے مطابق دعا منگی کے اس بیان کو سچ مان بھی لیا جائے تو قانونی طور پر اس بیان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ دوسری جانب اسے اس مقام پر لے جاکر تفتیش کرنے کی کوشش نہیں کی گئی کہ جہاں مغویہ کے مطابق ملزمان نے اسے رہا کیا۔ کراچی کے علاقے ڈیفنس سے طالبہ دعا منگی کے اغوا اور تاوان وصولی کے مقدمے میں پولیس کو سیاسی یا اخلاقی دباؤ کا سامنا ہے بازیابی کی رات اس کیلئے صدر کراچی کے ہوٹل میں کمرہ بک کرانے کی کوشش نے اس واردات کے سلسلے میں شکوک و شبہات کو تقویت دی ہے۔ پولیس کے ایک اور ذرائع نے اس معاملے میں پولیس کو سیاسی اور لسانی دباؤ کا سامنے کرنے کا بھی انکشاف کیا ہے۔