تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔۔۔ عمران خان اور نواز شریف میں سے سچا کون ہے ؟ حامد میر اور منصور علی خان آمنے سامنے آگئے

لاہور (ویب ڈیسک) ہمیں یاد ہے زرا زرا۔۔ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔۔۔ بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے؟ آپ خود ہی دیکھ لیجئے۔ نجی ٹی وی کے ایک اور پروگرام میں تجزیہ کار حامد میر اور منصور علی خان آمنے سامنے آگئے۔ پروگرام کے ایک کلپ میں سینئر تجزیہ کار حامد نے کہا کہ

آپ کے ٹی وی چینلز اور باقی بھی چیلنز پر جب کوئی تقریر کے دوران کوئی بھی الفاظ میوٹ کرتے ہیں تو ایسا کیوں کرتے ہیں۔۔؟؟ کیا یہ عدالت کا حکم نہیں ہے؟ عدالت کا حکم ہے کہ ایک سیاسی جماعت جس کا بڑا رہنما بیرون ملک بیٹھا ہے، اس کا بیان در کنار اسکا تو نام بھی نشر نہیں کر سکتے۔ حامد میر نے مزید کہا کہ عدالت کی جانب سے پیمرا کو حکم دیا گیا ہے کہ عدلیہ کے خلاف کوئی بھی توہین امیز بات نشر نہ ہو، جبکہ اس حوالے سے مانیٹرنگ بھی کی جا رہی ہے اور نوٹسز بھی لیے جا رہے ہیں۔ ٹی وی چینلز کی طرف سے دیکھا جا رہا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کی تقریروں کے دوران ایسی کوئی بات نہ چلی جائے جس سے اس چینل کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس پہنچ جائے۔ منصور علی خان کو مخاطب کرتے ہوئے حامد نے کہا کہ آپکے اور میرے پروگرام کے دوران میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف کے تقاریر دکھائی جاتی ہیں۔ تو سینسر شپ کہاں ملی ہوئی ہے، یہ کیسی سینسر شپ ہے؟ ۔ انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف خود کہہ رہےہیں کہ سینسر شپ لگی ہوئی ہے اور ان کا بیان ٹی وی پر نشر ہو رہا ہے۔ سینئر تجزیہ کار حامد نے مزید کہا کہ سنسر شپ وہ تھی جب جنرل ضیا الحق اور پرویز مشرف کے دور میں میڈیا کو بالکل بند کر دیا گیا تھا، صحافیوں کو جیلوں میں بند کیا گیا، پھر مشرف کے دور میں میرے سمیت کئی صحافیوں پر پابندی لگادی گئی، کئی مہینوں تک ہماری شکل تک نظر نہیں آئی، وہ تھی اصل سینسرشپ۔ یہ کیا سنسر شپ ہے کہ آپ صبح شام جلسوں سے خطاب کرتے ہیں ، بیانات نشر ہو رہے ہیں، اور آپ کہہ رہے ہیں کہ سنسر شپ لگی ہوئی ہے۔ یہی حامد میر تھے جب انکے عمران خان سے تعلقات اچھے تھے تو نوازشریف اور مریم نواز پر لگائی گئی میڈیا سنسرشپ کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ اسکا مقصد ہے کہ کوئی ایسی بات نہ چلی جائے تو فوج اور عدلیہ کے وقار کے منافی ہو۔۔ پیمرا یہ سب عدالت کے کہنے پر کررہا ہے۔ نوازشریف ٹی وی پر بیان دیتے ہیں کہ سنسرشپ لگی ہوئی ہے لیکن انکے بیانات نشر ہورہے ہیں۔ لیکن جب عمران خان نے حامد میر کو ان فالو کیا تو حامد میر کی نظر میں میڈیا سنسرشپ کے معنی ہی بدل گئے۔۔ آج کل حامد میر فرماتے ہیں کہ حکومت صحافیوں کو دبا رہی ہے۔ مریم نواز اور نوازشریف کے بیانات نشر نہیں ہورہے۔ پیمرا حکومت کا آلہ کار بنا ہوا ہے۔ یعنی جب حامد میر کا موڈ ہوتو سنسرشپ کے معنی ہی بدل جاتے ہیں ۔