سوشل میڈیا پر زیر گردش فاطمہ سہیل کی مبینہ ویڈیو کے اصل کردار سامنے آگئے۔۔۔ یہ کون ہیں؟ تمام حقائق سامنے آگئے

لاہور (ویب ڈیسک) سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو کے اصل کردار سامنے آگئے۔ فاطمہ سہیل نے ایک اسٹوری شئر کی ہے جس میں نازیبا ویڈیو میں فحش حرکات کرتے جوڑے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ تصاویر شئر کرتے ہوے فاطمہ نے لکھا کہ “اب ان کا پیچھا چھوڑ دیا جاے”

ان کا مزید کہنا تھا کہ “کوی بھی چیز شئیر کرنے سے پہلے تصدیق کر لینی چاہیے، کسی نے بہت اچھا پروپیگینڈا کیا مگر جھوٹ ہمیشہ جھوٹ رہتا ہے اور سچ ہمیشہ سامنے آکر ہی رہتا ہے۔ حال ہی میں بول نیوز کے پروگرام ’ایسا نہیں چلے گا‘ ود ڈاکٹرفضا کے ہمراہ ایک انٹرویو میں پاکستانی میڈیا انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی خاتون فاطمہ سہیل نے سوشل میڈیا پر نازیبا وائرل ویڈیو کے متعلق بتایا کہ وہ اس ویڈیو کے متعلق کچھ نہیں جانتی اور کہا کہ مجھ سے بدلہ لیا جارہا ہے۔ انٹرویو میں ایک پیغام کے طورپرفاطمہ سہیل کا کہنا تھا کہ میں اپنی طرح کی ہر خواتین کے لیے مثال بنیں گی اور اپنے حق کے لیے آواز اٹھائیں گی، اپنے اور اپنے بچے کے لیے بقاء کی جنگ لڑیں گی۔ وائرل ویڈیوجو کہ گزشتہ کئی روز سےسوشل میڈیاپرگردش کررہی ہے،فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سےنوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئےکہا گیا ہے کہ اس میں موجود خاتون فاطمہ سہیل نہیں بلکہ کوئی اورہیں۔ ایف آئی اےنے نوٹیفکیشن جاری کیاہے کہ سوشل میڈیاپر زیر گردش نازیباویڈیوغیر متعلقہ ہےاور اداکار محسن عباس کی سابقہ بیوی فاطمہ سہیل کی نہیں بلکہ ان سے ملتی جلتی کسی خاتون کی ہے۔ ایف آئی اے نےنوٹیفکیشن کے مندجات میں واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاطمہ سہیل جوکہ ایک نامور ٹی وی اینکر ہیں اور 4دسمبر کولیک ہونے والی ایک نازیبا ویڈیومیں موجود ہی نہیں بلکہ ان سے ملتی جلتی شکل کی کوئی اور خاتون ہیں۔ ’ان لوگوں کوشرم آنی چاہیئے جو گندی ویڈیو میرے نام کے ساتھ منسوب کررہے ہیں،

میرے بیٹے کی شناخت پر سوال اٹھا رہے ہیں، اس شخص کو بھی شرم سے ڈوب مرنا چاہیئے جسکا یہ بیٹاہے۔ اس شخص کوایک بار ضرور بولناچاہیئے تھا کہ ویڈیو میں جو عورت ہے وہ میری بیوی نہیں، جس نے خود یہ حرکت کی ہو وہ کیوں بولے گا‘۔ فاطمہ سہیل جو اپنے کرئیر کادوبارہ آغاز کرنے جارہی ہیں، اینکرفضا اکبر کےایک سوال پر کہا کہ اب اس شخص کو یہ مسئلہ ہورہاہے کہ یہ زندہ ہی کیوں ہے، یہ اپنے بچے کیلئے اسٹینڈ کیوں لے رہی ہے، یہ اپنے بچےکیلئے کام کیوں کررہی ہے۔ وہ شخص اپنے بیٹے کوایک روپیہ تک نہیں دیتا۔کیا مجھے اپنے بیٹے کوپالنا نہیں؟ ان کا کہناتھا کہ لوگوں کی جانب سے اس کمنٹ پر شدید دکھ ہوا کہ یہ عورت میڈیا میں آنا چاہتی تھی،کیا میں نے پہلے میڈیا پر کبھی کام نہیں کیایا کبھی کیمرہ فیس نہیں کیا،کیا کبھی اسکرین پر نہیں آئی۔ لوگ بولنے سے پہلے ایک بار بھی نہیں سوچتے۔ ’میرا کچھ دن بعد بول ٹی وی پر شوآن ائیر ہونے والاہے، مجھ سے بدلہ لینے کیلئے میری عزت پر سوال اٹھایا جارہاہے،میں نے اکتوبر میں سائبر کرائم سے رابطہ کیا تھاکیونکہ میرے شوہرکی گرل فرینڈ کی جانب سے مجھے دھمکی آمیز پیغامات موصول ہورہےتھے، اس کی جانب سے پیغامات پرمجھے ہراساں کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ وہ مجھ سے ان دونوں کو چہرہ نقاب کرنے کا بدلہ لے رہی ہے‘۔ ’میرا 6 ماہ کا بچہ ہے، میں ابھی اس اذیت سے باہر نہیں نکلی تھی، مجھے مزید چوٹ پر چوٹ پہنچائی جارہی ہے‘۔ فاطمہ سہیل نےکہا کہ صرف انہیں ہی نہیں بلکہ ان کے پورے خاندان کوتکلیف پہنچائی جارہی ہے، ’میرے خلاف ایک مہم سرگرم ہے، ایسےپیجز بھی ہیں جو بغیر تصدیق کیے خبر چلا دیتے ہیں۔ یہ لوگوں کو خود کشی پرمجبور کردیں گے‘۔ انہوں نےبتایاکہ ’26 ستمبر کومیری خلا ہوچکی ہے اور اب بچے کی تحویل کاکیس چل رہاہ ہے اور پہلے جو کیس ڈومیسٹک وائلنس اور دھوکا دہی کاتھا، وہ بھی زیر سماعت ہے‘۔ آخر میں انہوں نےپیغام دیتے ہوئے کہاکہ ’میرا یہ پیغام ان لوگوں کیلئے ہے جو مجھے توڑنا چاہتے ہیں، یہ ان لوگوں کی بھول ہے کہ میں پیچھے ہٹوں گی،میں تمام عورتوں کیلئے مثال بنوں گی کہ انہیں اپنے اور اپنے بچوں کیلئے اسٹینڈ لیناہے اور ایسے لوگوں سے ڈرنا نہیں ہےجو پیٹھ پیچھے گری ہوئی حرکتیں کرتے ہیں۔ لوگوں کوایک بار پھر واضح طور پر بتادینا چاہتی ہوں کہ یہ میری ویڈیو نہیں ہے، مجھے اس ویڈیو کے ساتھ نہ جوڑا جائے‘۔