دعا منگی اغوا کیس : تاوان کی رقم کہاں ادا کی گئی؟ سنسنی خیز انکشافات

کراچی (ویب ڈیسک) دعا منگی اغوا کیس میں نئے سنسنی خیز انکشافات ہوئے ہیں، جن کے مطابق ملزمان کی تاوان وصولی کی پہلی کوشش بالکل نا کام رہی تھی۔ ملزمان اور پولیس کے درمیان گلشن اقبال میں مقابلہ بھی ہوا جس میں دو پولیس اہلکار اور ایک ملزم زخمی ہوا۔

ملزمان دوسری بار تاوان کی رقم بیس لاکھ روپے وصول کرنے میں کامیاب ہوگئے، ملزمان نے جمعہ کودعاکے اہلخانہ کو کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 2 میں بلایا، جہاں طوبیٰ مسجد کے قریب تاوان کی رقم ادا کی گئی۔ ملزمان نے اہل خانہ سے انٹرنیٹ ایپلی کیشن پررابطہ کیا۔ پولیس حکام کے مطابق دعا منگی کا بیان ریکارڈ کرنے کیلئے سوال نامہ تیار ہے۔ تین مقامات کی جیو فینسنگ سے کوئی مدد نہیں مل سکی، اس لیے سی سی ٹی وی فوٹیج بہتر بنانے کے لیے ماہرین کی مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کراچی کے پوش علاقے میں گزشتہ ہفتے اغوا کیس میں پولیس کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لڑکی دعا منگی کی گھر واپسی تو ہوگئی ہے تاہم کیس کو حل کرنا کراچی پولیس کے لئے چیلنج بن چکا ہے۔ تفتیشی ٹیم نے تین روز قبل عزیز بھٹی کے علاقے میں مبینہ پولیس مقابلے کو دعا منگی کو لے جانے والے اغواکاروں سے جوڑ دیا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق عزیز بھٹی میں جو مقابلہ ہوا، وہ ملزمان دعا کو اغوا کر کے لے کرگئے۔ ملزمان نے فائرنگ بھی کی جس سے پولیس کے دو اہلکار زخمی ہوئے جبکہ ایک ملزم کو زخمی کیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دعا کے تاوان کی رقم ساؤتھ زون میں مسجد کے قریب ادا کی گئی، رقم دینے سے پہلے تفتیشی ٹیم کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ دوسری جانب پولیس یہ بات جانتے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دعا کو کس مقام پر رکھا گیا تھا؟ رہائی کیلئے کتنی رقم ادا کی؟ معلوم کیا جارہا ہے جبکہ دعا منگی کا بیان آج ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق تفتشی ٹیم نے تاحال دعا منگی کا بیان ریکارڈ نہیں کیا ہے تاہم بیان کے لیے سوال نامہ تیار کر لیا گیا ہے۔ دعا مگی سے بیان کے بعد حارث کا دوباہ بیان لیا جائے گا کیونکہ دونوں نوجوانوں نے ملزمان کو قریب سے دیکھا ہے۔ تفیشی ذرائع کے مطابق کراچی کے علاقے خالد بن روڈ اور ڈیفنس سمیت تین مقامات کی جیو فینسک سے مدد نہیں ملی۔ جائے وقعہ اور اطراف کی سی سی ٹی وی کو بہتر بنانے کیلئے ماہرین سے مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔