کیا ریاست مدینہ نقیب اللہ مسعود کو انصاف دے پائے گی یا نہیں ؟حکومت نےدو ٹوک اعلان جاری کر دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان کے ترجمان ندیم افصل چن کا کہنا ہے کہ نقیب اللہ مسعود کو انصاف نہیں ملے گا۔انکا کہنا ہےکہ ہمارے اس سسٹم میں نقیب اللہ مسعود کے اہل خانہ کو انصاف نہیں ملے گا۔ایک نجی چینل کو انٹر ویو دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کے ترجمان ندیم افصل چن

کا کہنا تھا کہ ہمارے اس ایلیٹ گینگ کے سسٹم میں نقیب اللہ مسعود کے بیٹے کو انصاف نہیں ملے گا ،اللہ تعالیٰ اگر انصاف دے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے .انھوں نے کہا کہ میں اقبال جرم کرتا ہو ں کہ ہمارے اس جوڈیشل سسٹم میں ،اس انوسٹیگیشن کے سسٹم،اس پراسیکیوشن کے سسٹم میں نقیب اللہ مسعود کے بیٹے کو انصاف نہیں ملے گا۔تفصیلات کے مطابق ایک نجی ٹی وی کے ایک شومیں صحافی نے نقیب اللہ مسعود کے والد کی میت کی تصویر دکھائی جس میں نقیب اللہ کا بیٹا دادا کی میت کے ساتھ لپٹا ہو ا تھا ۔اس پر صحافی نے سوال کیا کہ کیا اس بچے کو انصاف ملے گا ؟اس پر وزیر اعظم عمران خان کے ترجمان ندیم افصل چن کا کہنا تھا کہ ہمارے اس ایلیٹ گینگ کے سسٹم میں نقیب اللہ مسعود کے بیٹے کو انصاف نہیں ملے گا۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق خیبرپختونخواہ حکومت کا ملک کی تیسری طویل ترین موٹروے تعمیر کرنے کا فیصلہ، صوبے کے جنوبی اضلاع کیلئے صوبائی دارالحکومت پشاور سے ڈی آئی خان تک تقریباً 340 کلومیٹر طویل شاہراہ تعمیر کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت ایک طویل اور اہم اجلاس میں پشاور سے ڈی آئی خان موٹروے کی الائنمنٹ کی اُصولی منظوری دے دی گئی ۔مجوزہ الائنمنٹ تقریباً 339 کلومیٹر طویل ہے ، جو 15 انٹر چینجز اور 3ٹنلز پر مشتمل ہے ، جس کے ذریعے جنوبی اضلاع اور تحصیلوں کے آبادی والے تمام دیہات اور قصبوں سمیت ترقی سے محروم علاقوں کو رسائی دی جارہی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جنوبی اضلاع کے عوامی نمائندوں کی مشاورت سے انٹر چینجز کے پلان کو حتمی شکل دی جائے ۔یہ موٹروے جنوبی اضلاع کیلئے موجودہ حکومت کا ایک بڑا منصوبہ ہے ، جس سے جنوبی خطے کی ترقی کے راستے ہموار ہوں گے اور عوام کو تیز رفتار سفری سہولت میسر آئے گی ۔یہ موٹروے پشاور میں چمکنی کے مقام سے شروع ہو کر درہ آدم خیل ،کوہاٹ، ہنگو ، کرک ، بنوں، لکی مروت، ڈی آئی خان تک جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے تقریباً 250ارب روپے کے تخمینہ لاگت سے اس منصوبے کو جلد شروع کرکے تیز رفتاری سے مکمل کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ جنوبی اضلاع میں جاری سڑکوں کی تعمیر کے منصوبوں کو بھی مختلف انٹر چینجز کے ذریعے ڈی آئی خان موٹر وے سے منسلک کیا جائیگا، جس سے جنوبی اضلاع کے تمام شہروں اور دیہات سمیت ترقی سے محروم علاقوں کو تیز رفتار سفری سہولت میسر آئیگی اور اس کے ساتھ سیاحت و تجارت کو بھی فروغ ملے گا۔ یہ موٹر وے جنوبی اضلاع کی تقدیر بدلنے کے لئے کسی سنگ میل سے کم نہیں ہو گی۔ خیبرپختونخواہ حکومت کا ملک کی تیسری طویل ترین موٹروے تعمیر کرنے کا فیصلہ، صوبے کے جنوبی اضلاع کیلئے صوبائی دارالحکومت پشاور سے ڈی آئی خان تک تقریباً 340 کلومیٹر طویل شاہراہ تعمیر کی جائے گی۔