’’میں ایسانہیں چاہتا تھا بس مجبو ر تھا۔۔۔‘‘چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی حمایت کس کے کہنے پر اور کیوں کی تھی؟ خواجہ آصف نے بتا دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)مسلم لیگ (ن )کے رہنما اور سابق وزیرخارجہ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ چیئر مین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے حق میں نہیں تھا۔ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے بہت زیادہ اصرار کیا گیا تھا۔انھوں نے کہا ہےکہ میں چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد

لانے کے حق میں نہیں تھا کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ اس قسم کا کوئی نہ کوئی اپ سیٹ ضرورہوگا لیکن اپوزیشن کی جانب سے اصرار کیاگیاجس پر رضا مندی ظاہر کی تھی ۔ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹر ویو دیتے ہوئے سابق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم اٹھارویں ترمیم کودوبارہ نہیں کھولناچاہتے اور نہ ہی ایسے کوئی دور دور تک ارادے رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے حق میں نہیں تھا کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ اس قسم کا کوئی نہ کوئی اپ سیٹ ضرور ہوگا لیکن اپوزیشن کی جانب سے اصرار کیاگیاپر مجھے انکی بات ماننا پڑی تھی۔انھوں نے کہا کہ یہ بات اب قصہ پارینہ بن چکی ہے ، سیاست میں سبق سیکھنا چاہیے۔میں لندن روانہ ہو رہا ہوں اور شہباز شریف سے ان ہاؤس تبدیلی کے بارے میں دریافت کرونگا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کی طرف سے یہ اجلاس عمومی طورپر بلایا گیا ہے ، یہ آج یا کل ہونیوالی تبدیلیوں سے متعلق نہیںہے۔لیگی رہنماءکا کہنا تھاکہ جب ہم نے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی تو اس وقت ہمارا حکومت کے اتحادیوں سے رابطہ تھا، حکومت کے اتحادی حکومت سے خوش نہیں ہیں ، یہ اتحاد سامنے سامنے ہی ہے اور پیچھے معاملات بکھرے ہوئے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سینئر صحافی کامران خان کا کہنا ہے کہ جس کسی کو پاکستان کی تیزی سے بہتر ہوتے ہو ئے معاشی حالات کے بارے میں ذرا بھی شک ہے وہ یہ رپورٹ پڑھے۔انکا کہنا ہے کہ رواں سال پاکستان میں غیر ملکی رقم کی بے مثال آمد دیکھی گئی ہے۔سینئر صحافی کامران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام دیتے ہوئے ایک رپورٹ کا حوالہ دیا ہے اور کہا ہے جس کسی کو پاکستان کی تیزی سے بہتر ہوتے ہو ئے معاشی حالات کے بارے میں ذرا بھی شک ہے وہ یہ خبر پڑھے ۔انکا مزید کہنا تھا کہ اگر آپ سچے پاکستانی ہیں تو یہ رپورٹ پڑھ پر آپکی طبیعت خوش ہو جائیگی اور پاکستان پر اعتماد میں اضافہ ہو گا۔